Lesen› Buch 2› Die Insassen des Gefängnisses beschweren sich beim Anwalt des Richters über den insolventen Mann› Vers 623
M2:623 — زین چنین قحط سهساله داد داد / ظل مولانا ابد پاینده باد
M2:623
Bedeutung · به زبانِ تو — Deine Sprache · AI
قید خانے کے مکین اس مفلس شخص کی وجہ سے تین سال سے جاری قحط سالی جیسی صورتِ حال کی شکایت کرتے ہوئے قاضی کے وکیل سے کہتے ہیں کہ کاش مولانا (قاضی) کا سایہ ہمیشہ سلامت رہے۔
یہ شعر قید خانے کی کہانی کے ایک حصے سے لیا گیا ہے جہاں قیدی، ایک مفلس اور بے شرم شخص کی وجہ سے اپنی پریشانیوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ شخص قید خانے میں سب کا کھانا کھا جاتا ہے اور کسی کے لیے کچھ نہیں چھوڑتا۔ قیدی اس صورتِ حال کو 'تین سالہ قحط' سے تعبیر کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ طویل عرصے سے اس مصیبت کا شکار ہیں۔
وہ قاضی کے وکیل سے فریاد کرتے ہیں اور قاضی کے لیے دعا کرتے ہیں کہ ان کا سایہ ہمیشہ قائم رہے، اس امید پر کہ قاضی ان کی داد رسی کرے گا۔ یہاں 'مولانا' کا لفظ قاضی کے لیے تعظیم کے طور پر استعمال ہوا ہے، جو اس وقت کے حکام کے لیے ایک عام خطاب تھا۔ قیدیوں کی یہ دعا دراصل ان کی بے بسی اور قاضی سے انصاف کی شدید خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ قاضی اس مفلس کو یا تو قید خانے سے نکال دے یا اس کے کھانے کا کوئی مستقل انتظام کرے۔
- قحط سهساله
- تین سالہ قحط، یہاں طویل عرصے سے جاری شدید تنگی اور بھوک کے لیے استعارہ ہے۔
- داد داد
- فریاد کی، انصاف چاہا، داد رسی کی طلب کی۔
- ظل مولانا
- مولانا کا سایہ، یہاں قاضی کی سرپرستی اور حمایت مراد ہے۔ 'مولانا' اس دور میں حکام کے لیے ایک تعظیمی لقب تھا۔
- ابد پاینده باد
- ہمیشہ قائم رہے، ہمیشہ سلامت رہے۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.