Read› Daftar 2› The king sends one of the two slaves on his way and questions the other› beyt 884
M2:884 — من نبینم روی خود را ای شمن / من ببینم روی تو تو روی من
M2:884
Meaning · به زبانِ تو — Your language · AI
اے میرے دوست، میں اپنی خامیوں پر نظر نہیں ڈالتا بلکہ تیری خوبیاں دیکھتا ہوں، اور تو بھی میرے عیبوں کے بجائے میری اچھائیاں دیکھتا ہے۔
یہ شعر اس کہانی کے سیاق و سباق میں آتا ہے جہاں ایک بادشاہ اپنے دو غلاموں کی وفاداری اور کردار کو پرکھ رہا ہے۔ ایک غلام دوسرے کی برائیاں بیان کرتا ہے، لیکن دوسرا غلام (جس کی طرف یہ شعر منسوب ہے) اپنے ساتھی کی تعریف کرتا ہے اور اس کی کوئی خامی بیان نہیں کرتا۔
اس شعر میں، غلام اپنے ساتھی کو 'شمن' کہہ کر مخاطب کرتا ہے، جو یہاں 'دوست' یا 'رفیق' کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اپنی ذات کے عیبوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تیری خوبیوں پر نظر رکھتا ہوں۔ اسی طرح، تو بھی میری خامیوں کے بجائے میری اچھائیاں دیکھتا ہے۔ یہ دراصل ایک دوسرے کے لیے محبت، خیر خواہی اور حسن ظن کا اظہار ہے۔ رومی یہاں ایک اہم صوفیانہ اور اخلاقی نکتہ پیش کرتے ہیں: سچے دوست اور اہل بصیرت لوگ دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور ان کی خوبیوں کو سراہتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ لوگ جو اپنی ذات کے عیبوں سے غافل ہوتے ہیں، دوسروں میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔
یہ بیعت خود شناسی اور خود احتسابی کے فلسفے کو بھی چھوتا ہے۔ جو شخص اپنی خامیوں کو پہچانتا ہے، وہ دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی اصلاح میں مصروف رہتا ہے۔ یہ غلام اپنی حکمت اور اعلیٰ ظرفی سے بادشاہ کو متاثر کرتا ہے، اور رومی اس کے ذریعے انسانی تعلقات میں مثبت رویے اور روحانی بصیرت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
- شمن
- یہاں 'دوست' یا 'رفیق' کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اگرچہ اس کا لغوی معنی بت پرست یا بت کا پجاری ہے۔ رومی اسے محبت بھرے انداز میں مخاطب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.