قرائت› دفتر ۵› بخش ۵۴ - مناجات› بیت ۱۱۹۹
M5:1199 — وز حسودی بازشان خر ای کریم / تا نباشند از حسد دیو رجیم
M5:1199
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
اے اللہ، تو ان لوگوں کو حسد کی بیماری سے نجات دے، تاکہ وہ اس بری خصلت کی وجہ سے شیطان کی طرح مردود نہ ہو جائیں۔
یہ شعر مولانا رومی کی مناجات کا حصہ ہے، جس میں وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر رہے ہیں کہ لوگوں کو حسد (حسد) کی آفت سے بچائے۔ مولانا یہاں حسد کو ایک ایسی مہلک بیماری قرار دے رہے ہیں جو انسان کو شیطان (دیو رجیم) جیسا بنا دیتی ہے۔ شیطان کو اللہ کی رحمت سے اس لیے دور کیا گیا کہ اس نے آدم علیہ السلام کی برتری پر حسد کیا۔ اسی طرح، جب انسان دوسروں کی نعمتوں اور کامیابیوں پر حسد کرتا ہے، تو وہ بھی اللہ کی نظر میں راندہ اور مردود ہو جاتا ہے۔
مولانا اس شعر میں اللہ کو 'کریم' (کریم) کہہ کر پکارتے ہیں، جس کا مطلب ہے 'بہت مہربان اور سخی'۔ اس پکار میں یہ امید پنہاں ہے کہ اللہ اپنی کریمی کے صدقے اپنے بندوں کو اس روحانی بیماری سے شفا دے گا۔ مولانا اس کے بعد کے اشعار میں حسد کے تباہ کن اثرات کی مثالیں دیتے ہیں، جیسے مال و دولت اور جسمانی لذتوں پر عام لوگوں کا حسد، بادشاہوں کا اپنے رشتہ داروں پر حسد، اور عشاق کا ایک دوسرے پر حسد۔ وہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حسد ایک عالمگیر آفت ہے جو ہر طبقے اور ہر رشتے کو تباہ کر سکتی ہے۔ لہٰذا، اس سے نجات کے لیے اللہ کی مدد ناگزیر ہے۔
- حسودی
- حسد، جلن، دوسروں کی نعمتوں پر رشک کرنا اور ان کے زوال کی تمنا کرنا۔
- بازشان خر
- انہیں پھر خرید لے، یعنی انہیں اس حالت سے نجات دے کر اپنی رحمت میں واپس لے لے۔
- کریم
- اللہ کا صفاتی نام، بہت مہربان، سخی، فیاض۔
- دیو رجیم
- راندہ ہوا شیطان، مردود شیطان۔ قرآن میں شیطان کے لیے یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.