পড়ুন› দফতর ১› আমরা ছোট জিহাদ থেকে বড় জিহাদে ফিরে এসেছি এর ব্যাখ্যা› দ্বিপদী ১৩৮৯
M1:1389 — این قدم حق را بود کو را کُشد / غیرِ حق خود کی کمان او کَشد
M1:1389
অর্থ · به زبانِ تو — আপনার ভাষা · AI
صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو انسان کے نفسِ امّارہ کو زیر کر سکتی ہے؛ اُس کے سوا کوئی اور اِس سرکش نفس پر قابو پانے کی طاقت نہیں رکھتا۔
یہاں مولانا رومی حدیثِ نبوی ”رجعنا من الجہاد الأصغر إلی الجہاد الأکبر“ (ہم جہادِ اصغر سے جہادِ اکبر کی طرف لوٹ آئے ہیں) کی تشریح کر رہے ہیں۔ جہادِ اکبر سے مراد اپنے نفس کے خلاف جنگ ہے۔
اس سے پچھلے اشعار میں، رومی نے انسانی نفس کو دوزخ سے تشبیہ دی ہے جو ہر شے کو نگل کر بھی سیر نہیں ہوتی اور مزید مانگتی ہے (هَلْ مِنْ مَزِيد)۔ جس طرح قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دوزخ پر اپنا قدم رکھے گا تب وہ پُر ہو کر خاموش ہو جائے گی، اسی طرح انسانی نفس کی آگ بھی صرف اُسی وقت بجھتی ہے جب اُس پر حق کا قدم یعنی اللہ کی خاص مدد اور تجلّی واقع ہو۔
یہ شعر اُسی تمثیل کو آگے بڑھاتا ہے۔ ”قدم“ سے مراد وہ فیصلہ کُن الٰہی مداخلت ہے جو نفس کو مغلوب کرتی ہے۔ نفس کو ایک ایسی سخت کمان سے تشبیہ دی گئی ہے جسے کھینچنا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ جس طرح ایک طاقتور کمان کو صرف ایک ماہر اور قوی تیرانداز ہی کھینچ سکتا ہے، اسی طرح نفس کی سرکش کمان کو صرف حق تعالیٰ کی طاقت ہی جھکا سکتی ہے۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ نفس کے خلاف جنگ میں انسان کی اپنی کوشش کافی نہیں، بلکہ اُسے مکمل طور پر اللہ کی مدد اور توفیق پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
- قدم
- پاؤں، لیکن یہاں مراد غلبہ، طاقت کا مظاہرہ، اور فیصلہ کُن عمل ہے۔
- حق را بود
- حق کا ہے، اللہ کے لیے مخصوص ہے۔
- کَشَد
- وہ کھینچتا ہے (فارسی فعل 'کشیدن' سے)۔
只有神的力量才能征服贪得无厌的自我(nafs);凡人靠自己是无法战胜它的。
这句诗是鲁米对“大圣战”(al-jihād al-akbar)——即与自我(nafs)斗争——的核心论断。在前面的诗句中,鲁米已将“自我”比作一个永不满足的地狱,吞噬万物却仍在呐喊“还有吗?”(hal min mazīd)。这个地狱般的自我,凡人的力量无法平息。
第一行诗句中的“此足”(این قدم),直接呼应了前文(M1:1387)引用的神学意象:真主将祂的“足”踏在地狱上,地狱方才平息。鲁米借此说明,只有神圣的、超越性的力量介入,才能制服这个内在的“地狱”。杀死或征服这个自我,是唯独属于神的权能。
第二行诗句则转换了一个意象:弓。这里的“它”(او)指的还是“自我”。“拉开它的弓”意味着掌控它、使用它、战胜它。鲁米设问:除了神,谁有能力拉开“自我”这张强弓?答案是无人能及。这强调了人的无助与神的万能。人若想在与自我的斗争中获胜,不能依靠自己的力量,而必须寻求神的助力与恩典(tawfīq)。这为后面先知所说的“我们从小圣战(外在征战)转向了大圣战(内在征战)”奠定了神学基础:这场内在的战争,其艰难远超外在战争,胜利的唯一希望在于神的介入。
- حق
- “真实”、“真理”、“权利”。在苏菲主义语境中,这是对“神”或“真主”最常用的称呼之一,强调其作为终极实在的属性。
- کَشَد
- 动词“کشیدن”的现在时第三人称单数形式,意为“拉”、“拽”、“引”。在此处指“拉开(弓)”。
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.