قرائت› دفتر ۱› بخش ۷۶ - تفسیر رجعنا من الجهاد الاصغر الیالجهاد الاکبر› بیت ۱۳۸۴
M1:1384 — هم نگردد ساکن از چندین غذا / تا ز حقّ آید مرورا این ندا
M1:1384
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
نفس، دوزخ کی مانند، لاتعداد خواہشات پوری ہونے پر بھی سیر نہیں ہوتا، جب تک کہ خود خدا اُسے روکنے کا حکم نہ دے۔
یہاں مولانا رومی "جہادِ اکبر" یعنی نفس کے خلاف جنگ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ وہ نفس کو دوزخ سے تشبیہ دیتے ہیں، جو کبھی نہیں بھرتی۔ پچھلے اشعار میں انہوں نے بتایا کہ جس طرح دوزخ سات سمندر پی کر اور بے شمار گناہگاروں کو نگل کر بھی مزید مانگتی ہے (قرآنی آیت 'ھَلْ مِنْ مَزید' کی طرف اشارہ)، اُسی طرح انسانی نفس بھی دنیا کی ہر نعمت اور لذت پا کر سیر نہیں ہوتا۔
یہ شعر اُسی تمثیل کو آگے بڑھاتا ہے۔ "اتنے لقموں" سے مراد دنیاوی خواہشات، مال و دولت، اور گناہوں کی لذت ہے، جو نفس کی بھوک کو اور بھڑکاتی ہیں۔ نفس کی یہ آگ اُس وقت تک ٹھنڈی نہیں ہوتی جب تک کہ "حق کی جانب سے صدا" نہ آئے۔ یہ صدا دراصل خدا کے حتمی اور قہری فیصلے کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ اگلے اشعار میں واضح ہوتا ہے کہ جب خدا اپنا "قدم" دوزخ پر رکھے گا، تبھی وہ پُر ہو کر خاموش ہوگی۔
صوفیانہ نکتہ یہ ہے کہ انسان اپنی عقل اور کوشش سے نفس کو پوری طرح قابو نہیں کر سکتا۔ اس کی بھوک لامتناہی ہے۔ اس پر مکمل غلبہ پانے کے لیے خدا کی خاص مدد اور تجلی کی ضرورت ہے، جو نفس کی ہستی کو مٹا کر اُسے حقیقی سکون عطا کرتی ہے۔
- ساکن
- پُرسکون، ٹھہرا ہوا، سیر
- مرورا
- اُس کو، اُس کے لیے (قدیم فارسی میں 'او را' کی شکل)
- ندا
- آواز، پکار، صدا
这句诗描绘了人的“自我”(nafs)永不满足的本性,它吞噬一切却永无宁日,除非来自神的最终命令使其静止下来。
这句诗出自鲁米对“我们已从较小的圣战(جهاد اصغر)转向了更大的圣战(جهاد اکبر)”这一圣训的阐释。这里的“更大的圣战”指的是与内在的“自我”(نفس nafs)——即人的欲望、激情和动物本能——所做的斗争。
鲁米将这个“自我”比作地狱,一个贪得无厌的巨龙(M1:1381)。它能饮尽七海,吞下顽石与恶人,却永远不会满足(M1:1382-1383)。这句诗(M1:1384)正是这一比喻的高潮:无论给它多少“食物”——世俗的财富、权力、享乐——它永不“平息”。它的饥渴是无限的,因为它本质上就是匮乏的化身。
真正的平息,并非来自满足它的欲望,而是来自一个超越性的干预。当“真实”(حقّ Haqq,苏菲派对神的称谓之一)发出神圣的“呼喊”或命令时,这种无尽的索求才会终结。接下来的诗句揭示,这个命令就是神以其绝对的存在“踏上”地狱,使其最终静止(M1:1387)。因此,战胜“自我”这场最大的战争,并非靠人的智谋或努力,而最终需要神的恩典与介入。
- حقّ
- (Haqq)“真实”、“真理”。在苏菲主义语境中,这是对神最常用的称谓之一,强调神是唯一的、终极的实在。
- مرورا
- 一个古波斯语形式,意为“对他/她/它而言”(او را)。在这里指代前文提到的“自我”(nafs)或地狱。
- ندا
- “呼喊”、“声音”、“召唤”。在此处指来自神的、具有创造性或终结性力量的神圣命令。
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.