قرائت› دفتر ۱› بخش ۸۲ - سؤال کردن رسول روم از عمر رضیالله عنه از سبب ابتلای ارواح با این آب و گل جسم› بیت ۱۵۲۷
M1:1527 — صد هزاران فایدهست و هر یکی / صد هزاران پیش آن یک اندکی
M1:1527
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
اس کائنات میں بے شمار فائدے ہیں، لیکن ان میں سے ہر ایک فائدہ اس عظیم ترین فائدے کے سامنے بہت حقیر ہے جس کا تعلق روح کے جسم میں آنے سے ہے۔
یہ شعر رومی کے اس مکالمے کا حصہ ہے جہاں روم کا سفیر خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھتا ہے کہ روح جیسی پاکیزہ شے کو مٹی کے اس جسم میں کیوں قید کیا گیا ہے۔ خلیفہ عمر اس سوال کو ایک گہرا اور معنی خیز سوال قرار دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس پر اعتراض کرنے کو نامناسب سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ قید (یعنی روح کا جسم میں آنا) بظاہر ایک تکلیف دہ عمل لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے بے شمار حکمتیں اور فائدے پوشیدہ ہیں۔
اس شعر میں اسی نکتے کو واضح کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں جو بھی فائدے نظر آتے ہیں، وہ سب اس عظیم فائدے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو روح کے جسم میں مقید ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ رومی کا اشارہ اس روحانی ارتقا، معرفتِ الٰہی اور اخلاقی تربیت کی طرف ہے جو انسان کو اس جسمانی وجود میں رہ کر حاصل ہوتی ہے۔ یہ دنیا، اپنی تمام تر مشکلات اور قید کے باوجود، روح کے لیے ایک تربیت گاہ ہے جہاں وہ کمال حاصل کرتی ہے۔ اس لیے، اس ظاہری قید پر اعتراض کرنے کے بجائے، اس کے گہرے فوائد اور حکمتوں پر غور کرنا چاہیے۔ یہ شعر انسان کو شکر گزاری اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر پر بھروسہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
- فایده
- فائدہ، نفع، خوبی
- اندکی
- بہت کم، معمولی چیز، حقیر
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.