قرائت› دفتر ۱› بخش ۱۳۷ - حکایت ماجرای نحوی و کشتیبان› بیت ۲۸۶۰
M1:2860 — بلک از دجله چو واقف آمدی / آن سبو را بر سر سنگی زدی
M1:2860
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
اگر اُس شخص کو بھی خدا کے لامحدود علم کا ادراک ہو جاتا، تو وہ اپنے محدود اور جزوی علم کو حقارت سے ترک کر دیتا۔
یہ شعر نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے اختتام پر مولانا کی تشریح کا حصہ ہے۔ یہاں تمثیل یہ ہے کہ انسان کا محدود علم ایک چھوٹے سے پانی کے مشکیزے (سبو) کی طرح ہے، جبکہ خدا کا علم دجلہ جیسے عظیم دریا کی مانند ہے۔
مولانا کہتے ہیں کہ جو شخص خدا کے علم کے سمندر سے ناواقف ہے، وہ اپنے چھوٹے سے مشکیزے پر فخر کرتا ہے اور اسے ہر جگہ لیے پھرتا ہے۔ لیکن جس لمحے اسے اُس عظیم دریا کا عرفان حاصل ہو جائے، اسے اپنا علم نہ صرف حقیر اور ناکافی محسوس ہوگا، بلکہ وہ اسے ایک رکاوٹ سمجھے گا۔
چنانچہ، وہ محض مشکیزے کو ایک طرف نہیں رکھے گا، بلکہ شدتِ احساس سے اسے پتھر پر پٹخ کر توڑ دے گا۔ یہ عمل جزوی علم سے مکمل بیزاری اور کلی علم (علمِ الٰہی) کے سامنے اپنے آپ کو فنا (محو) کر دینے کی علامت ہے۔ یہ محض علم کو ترک کرنا نہیں، بلکہ اُس پر قائم تکبر اور ذات کے احساس کو مٹانا ہے۔
- دجله
- دریائے دجلہ۔ یہاں یہ خدا کے لامحدود علم کی تمثیل ہے۔
- واقف آمدی
- واقف ہو جاتا، آگاہ ہو جاتا۔
- سبو
- پانی کا چھوٹا مٹکا یا مشکیزہ۔ یہاں یہ انسان کے محدود، رسمی علم کی علامت ہے۔
- بر سر سنگی زدی
- کسی پتھر کے سر پر مار دیتا، یعنی پٹخ کر توڑ دیتا۔
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.