قرائت› دفتر ۱› بخش ۱۶۰ - بقیهٔ قصه زید در جواب رسول صلی الله علیه و سلم› بیت ۳۶۵۰
M1:3650 — چونک غیب و غایب و روپوش به / پس لبان بر بند و لب خاموش به
M1:3650
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
چونکہ خدا اور اس کے بھید پوشیدہ ہیں اور پردے میں رہنا ہی بہتر ہے، اس لیے اپنی زبان کو خاموش رکھنا اور بولنے سے پرہیز کرنا ہی مناسب ہے۔
یہ شعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ جب معاملہ غیب اور خدا کی ذات کا ہو، تو خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ رومی یہاں یہ نکتہ بیان کر رہے ہیں کہ خدا کی ذات اور اس کے بھید ہماری عقل اور زبان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ جس طرح ایک بادشاہ کی غیر موجودگی میں اس کی وفاداری کا مظاہرہ زیادہ قابلِ قدر ہوتا ہے (جیسا کہ پچھلے اشعار میں قلعہ دار کی مثال سے واضح کیا گیا)، اسی طرح خدا کی غیبی موجودگی میں اس کی بندگی اور اس کے اسرار پر خاموشی اختیار کرنا ہی دانش مندی ہے۔
یہاں 'غیب' سے مراد وہ حقیقت ہے جو ہماری حسی ادراک سے پوشیدہ ہے۔ 'غائب' خود خدا کی ذات ہے جو ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ 'روپوش' ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کچھ چیزوں کا پردے میں رہنا ہی ان کی عظمت اور تقدس کا تقاضا ہے۔ اس تناظر میں، انسان کو چاہیے کہ وہ ان غیبی حقائق پر بے جا بحث و مباحثہ کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرے اور اپنے دل کو معرفت کے لیے تیار کرے۔ زبان کو بند رکھنا دراصل دل کی آنکھ کھولنے کی طرف ایک اشارہ ہے۔
- غیب
- پوشیدہ، پنہاں، وہ حقیقت جو حسی ادراک سے باہر ہو
- غایب
- غیر حاضر، جو نظروں سے اوجھل ہو (یہاں خدا کی ذات کے لیے مستعمل)
- روپوش
- پردہ پوش، ڈھکا ہوا، جو پردے میں ہو
- لبان بر بند
- ہونٹ بند کر لے، خاموشی اختیار کر
- خاموش به
- خاموش رہنا بہتر ہے، خاموشی مناسب ہے
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.