पढ़िए› दफ़्तर 2› अल्लाह त’आला का मूसा (अलैहिस्सलाम) को उस चरवाहे के कारण डाँटना› शेर 1757
M2:1757 — هندوان را اصطلاحِ هند مدح / سندیان را اصطلاحِ سِند مدح
M2:1757
अर्थ · به زبانِ تو — आपकी भाषा · AI
اہلِ ہند کی حمد و ثنا اُنہی کی زبان اور محاورے میں قابلِ قبول ہے، اور اہلِ سندھ کی حمد اُنہی کے اپنے مخصوص اسلوب میں تعریف کے لائق ہے۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے قصے میں اُس خدائی عتاب کا حصہ ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوا۔ جب موسیٰ نے چرواہے کو اُس کی بے تکلف اور بظاہر گستاخانہ دعا پر ڈانٹا تو خدا نے اُنہیں سمجھایا کہ ہر قوم اور ہر فرد کا حق سے رشتہ قائم کرنے کا اپنا ایک طریقہ اور اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔
مولانا یہاں مثال دے کر واضح کر رہے ہیں کہ عبادت اور محبت کے اظہار کا پیمانہ ظاہری الفاظ یا رسوم نہیں بلکہ باطن کی سچائی اور خلوص ہے۔ جس طرح ہندوؤں کے لیے اُنہی کی زبان اور ثقافتی محاورے میں کی گئی تعریف، تعریف ہے، اُسی طرح سندھیوں کے لیے اُن کا اپنا انداز قابلِ قدر ہے۔ خدا کو کسی خاص زبان، لہجے یا ”مہذب“ الفاظ کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر زبان اور ہر حال میں دل کی پکار کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔
اس شعر کا گہرا نکتہ یہ ہے کہ روحانیت میں ظاہری صورتوں کا تنوع خدا کی رحمت کی دلیل ہے، نہ کہ گمراہی کی۔ اصل چیز ”حال“ یعنی باطنی کیفیت ہے، ”قال“ یعنی ظاہری گفتار نہیں۔ خدا تک پہنچنے کے راستے ان گنت ہیں اور ہر شخص کا راستہ اُس کی اپنی فطرت اور استعداد کے مطابق ہوتا ہے۔ کسی ایک راستے کو معیار بنا کر دوسروں کے طریقوں کو حقیر جاننا خدا کی حکمت میں مداخلت کے مترادف ہے۔
- اصطلاح
- مخصوص بولی، محاورہ، کسی گروہ کا خاص طریقہ یا اسلوبِ بیاں۔
- مدح
- تعریف، ستائش، حمد و ثنا۔
- هندوان
- اہلِ ہند، ہندوستان کے باشندے۔
- سندیان
- اہلِ سندھ، سندھ کے باشندے۔
هر قوم و ملتی با زبان، فرهنگ و اصطلاحات خاص خود خدا را ستایش میکند و این ستایش نزد خداوند پذیرفته است، زیرا او به صورتها و قالبها نمینگرد.
این بیت در ادامهی عتاب خداوند به موسی (ع) است که چرا چوپان سادهدل را به خاطر شیوهی عامیانهاش در عبادت سرزنش کرده است. خداوند به موسی یادآوری میکند که او برای «وصل کردن» فرستاده شده، نه «فصل کردن» و جدایی انداختن.
مولانا در اینجا با ذکر دو مثال جغرافیایی و فرهنگی، یعنی «هندوان» (مردمان هند) و «سندیان» (مردمان ناحیه سند)، بر یک اصل مهم تأکید میکند: کثرت در صورت، وحدت در معنا. خداوند برای هر قوم و ملتی، سیرت و روشی خاص قرار داده است. شیوهی پرستش و ستایش هندیان، مطابق با زبان، آداب و «اصطلاح» خودشان است و همین شیوه برایشان «مدح» و ستایش محسوب میشود. به همین ترتیب، مردمان سند نیز با اصطلاحات و فرهنگ خود خدا را میستایند و این کارشان نیز «مدح» است.
نکتهی کلیدی این است که خداوند به ظواهر و قالبهای زبانی و فرهنگی نگاه نمیکند، بلکه به جوهر و حقیقتِ حال و سوز درونی بنده توجه دارد. همانطور که در ابیات بعدی میآید: «ما زبان را ننگریم و قال را / ما روان را بنگریم و حال را». بنابراین، سرزنش چوپان از سوی موسی، نادیده گرفتن این حقیقت بود که عشق و نیاز آن چوپان، حقیقی و صادقانه بود، هرچند بیانش با آداب و شریعت رسمی پیامبری چون موسی تطابق نداشت. این بیت دعوتی است به رواداری دینی و فرهنگی و درک این نکته که راههای رسیدن به خدا متعدد و متنوع است.
- اصطلاح
- در اینجا به معنی زبان، گویش، شیوه و فرهنگ خاص یک قوم.
- مدح
- ستایش، ستودن، تحسین.
- هندوان
- مردمان سرزمین هند.
- سندیان
- مردمان سرزمین سِند (در پاکستان امروزی).
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.