لوستل› دفتر ۲› د هغه شپون لپاره د حق تعالی لخوا پر موسی علیه السلام عتاب› بيت ۱۷۶۵
M2:1765 — عاشقان را هر نفَسْ سوزیدَنیست / بر دِهِ ویران خَراج و عُشْر نیست
M2:1765
مانا · به زبانِ تو — ستاسو ژبه · AI
عشق کی راہ میں ہر لمحہ جلنا اور تڑپنا ہی عاشق کی عبادت ہے۔ جس طرح ایک تباہ حال گاؤں سے کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا، اسی طرح عشق میں فنا ہو جانے والے سے ظاہری آداب اور ضابطوں کا تقاضا نہیں کیا جاتا۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے قصے میں ایک اہم نکتہ بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو سمجھا رہے ہیں کہ ظاہری آداب اور رسمی عبادات ایک طبقے کے لیے ہیں، لیکن جن کے دل عشقِ الٰہی کی آگ میں جل کر راکھ ہو چکے ہوں، اُن کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔
پہلا مصرع، ”عاشقوں کے نصیب میں تو ہر سانس جلنا ہے“، یہ بتاتا ہے کہ عاشق کا وجود ہی عشق کی آگ میں جلنے کے لیے ہے۔ اس کا ہر لمحہ، ہر سانس اسی سوز و گداز میں گزرتا ہے۔ یہ جلنا کوئی سزا نہیں، بلکہ اس کی زندگی اور اس کی عبادت کا جوہر ہے۔
دوسرا مصرع ایک مثال کے ذریعے اس بات کو واضح کرتا ہے: ”ویران گاؤں پر کوئی خراج یا عشر نہیں ہوتا“۔ جس طرح ایک حاکم اُس گاؤں سے ٹیکس (خراج و عشر) وصول نہیں کرتا جو پہلے ہی تباہ و برباد ہو چکا ہو، اسی طرح اللہ بھی اس عاشق سے، جس کا دل اور روح عشق میں فنا ہو چکے ہوں، ظاہری ضابطوں اور شریعت کے کڑے اصولوں کی پابندی کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اس کا دل تو پہلے ہی عشق کی نذر ہو چکا، اب اس سے مزید کیا تقاضا کیا جائے؟ یہ شعر دراصل باطن کی کیفیت (حال) کو ظاہر کے عمل (قال) پر فوقیت دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ سچی محبت تمام رسمی اصولوں سے بالاتر ہے۔
- سوزیدَنیست
- جلنا ہی ہے، جلنے کے لیے ہے۔ یہ عاشق کی مستقل کیفیت اور اس کے مقدر کو ظاہر کرتا ہے۔
- خَراج
- زمین کا ٹیکس؛ وہ محصول جو حکومت کسانوں یا زمینداروں سے وصول کرتی ہے۔
- عُشْر
- دسواں حصہ؛ اسلامی فقہ کی اصطلاح میں زرعی پیداوار پر لگنے والا ٹیکس جو عموماً دس فیصد ہوتا ہے۔
- دِهِ ویران
- تباہ شدہ گاؤں، اجڑا ہوا قصبہ۔ یہاں یہ عاشق کے دل کی علامت ہے جو عشق میں اپنی ہستی مٹا چکا ہے۔
عاشق، که دلش از آتش عشق ویران شده، از قواعد و آداب ظاهری معاف است؛ همانگونه که از یک دهکدهی خراب و بیحاصل، مالیات و خراج نمیستانند.
این بیت در ادامهی داستان موسی و شبان و پاسخ خداوند به موسی است. خداوند به موسی میگوید که عاشقان حقیقی راه و رسمی متفاوت دارند. جان و روان آنها در آتش عشق الهی همواره در حال سوختن است. این «سوختن» آنها را از قید و بند آداب و رسوم ظاهری آزاد میکند.
مولانا برای روشن کردن این مفهوم، از یک مثال ملموس استفاده میکند: حکومتها از روستایی که ویران شده و هیچ محصولی ندارد، مالیات (خراج و عُشر) طلب نمیکنند. به همین ترتیب، از عاشقی که تمام وجودش، افکار و کلماتش، در آتش عشق سوخته و «ویران» شده است، نباید انتظار داشت که آداب و عبارات دقیق و حسابشدهی دیگران را رعایت کند. دل او دیگر «آباد» به تعلقات دنیوی و صورتهای ظاهری نیست که بتوان از آن «مالیاتِ» آدابدانی را طلب کرد. خطای ظاهری چنین عاشقی، در نزد خداوند از صدها عبادت صحیح اما بیروح، ارزشمندتر است.
- سوزیدَنیست
- در حال سوختن است، باید بسوزد
- خَراج
- مالیات، باج، پولی که از زمین و محصول گرفته میشد
- عُشْر
- یکدهم، مالیات شرعی معادل یکدهم محصول کشاورزی
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.