อ่าน› Daftar 2› พระเจ้าทรงตำหนิมูซาเกี่ยวกับคนเลี้ยงแกะ› โคลงคู่ 1756
M2:1756 — من نکردم امر تا سودی کنم / بَلک تا بر بندگان جودی کنم
M2:1756
ความหมาย · به زبانِ تو — ภาษาของคุณ · AI
خدا فرماتا ہے: میں نے عبادت کا حکم اس لیے نہیں دیا کہ مجھے کوئی فائدہ پہنچے، بلکہ اس لیے دیا ہے کہ میں اپنے بندوں پر اپنی سخاوت اور مہربانی نچھاور کر سکوں۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے قصے کے اس حصے میں آتا ہے جہاں خدا حضرت موسیٰ پر عتاب فرما رہا ہے۔ حضرت موسیٰ نے چرواہے کو اس کی سادہ اور بے تکلف عبادت پر ٹوکا تھا، جس سے چرواہے کا دل ٹوٹ گیا۔
اس کے جواب میں خدا واضح کرتا ہے کہ عبادت اور مذہبی احکامات کا مقصد خدا کی ذات کو کوئی نفع پہنچانا نہیں ہے، کیونکہ وہ ہر قسم کے نفع و نقصان سے بے نیاز ہے۔ اس کا اصل مقصد خود انسانوں پر رحمت اور بخشش کرنا ہے۔ عبادت ایک ذریعہ ہے جس سے بندے خدا کے فضل و کرم کو حاصل کرتے ہیں۔ یہ بندے کی اپنی روحانی نشوونما اور فائدے کے لیے ہے۔
مولانا رومی اس نکتے پر زور دے رہے ہیں کہ شریعت کا باطن اس کی روح اور نیت ہے، نہ کہ صرف ظاہری الفاظ اور رسوم۔ خدا کو کسی کی تسبیح کی ضرورت نہیں؛ یہ تسبیح کرنے والے ہی ہیں جو اس عمل سے پاکیزہ اور فیضیاب ہوتے ہیں۔ لہٰذا، عبادت کا حکم خدا کی طرف سے ایک انعام اور جود و سخا کا مظہر ہے، نہ کہ اس کی اپنی کوئی ضرورت۔
- جود
- سخاوت، فیاضی، بخشش۔
- سود
- نفع، فائدہ، منافع۔
- بندگان
- بندہ کی جمع؛ غلام، پرستار، یہاں مراد خدا کے تمام انسان ہیں۔
خداوند به موسی میگوید که هدف من از امر به عبادت، سود بردن خودم نیست، بلکه این راهی است برای بخشیدن و ارزانی داشتنِ لطفم به بندگان.
این بیت در بطن داستان موسی و شبان، پاسخ خداوند به موسی است. موسی چوپان را به خاطر زبان ساده و عاشقانهاش در عبادت سرزنش کرده بود، اما خداوند موسی را عتاب میکند که چرا بندهی ما را از ما جدا کردی.
در اینجا، خداوند فلسفهی عبادت و شریعت را بیان میکند. او توضیح میدهد که فرمانهای الهی برای رفع نیاز یا کسب منفعت برای خودِ خدا نیست؛ چرا که ذات او بینیاز مطلق است. در بیت قبل، مولانا بیان کرد که خدا «بری از پاک و ناپاکی» است. این بیت آن ایده را تکمیل میکند: هدف از «امر» (دستورات دینی)، نه سود بردن خدا، بلکه «جود» (بخشش) کردن به بندگان است. عبادت و نیایش، کانال و بهانهای است تا رحمت و بخشش الهی بر بندگان جاری شود. این راهی است که انسان ظرفیت دریافت فیض الهی را پیدا میکند، نه راهی که خدا به وسیلهی آن چیزی به دست آورد. در واقع، این بندگان هستند که از طریق عبادت، خود را پاک و لایق دریافت موهبتهای الهی میکنند.
- امر
- فرمان، دستور (در اینجا مقصود دستورات و تکالیف دینی است)
- سودی
- منفعت، فایدهای
- بَلک
- بلکه
- جودی
- بخشش، کرم، سخاوتی
God declares that His commandments are not for His own gain, but purely for the benefit and grace of humanity.
This couplet is God's direct address to Moses, rebuking him for his harsh judgment of the simple shepherd. Moses, in his zeal for religious propriety, had condemned the shepherd's unconventional and seemingly blasphemous prayer. God here clarifies a fundamental principle of divine law and compassion: His commands are not a means for Him to 'gain' anything, for He is utterly beyond need. Instead, they are expressions of His boundless generosity (jūd).
The divine intent behind all religious injunctions, rituals, and moral codes is to provide a path for humanity's spiritual growth, purification, and ultimate well-being. It is a gift, a 'bounty,' offered to His servants, enabling them to draw closer to Him and attain inner peace and perfection. Moses's error was in mistaking the form of worship for its essence, and in failing to recognize the divine mercy that embraces all sincere hearts, regardless of their outward expression or theological sophistication. God's concern is with the inner state, the loving intention, not the precise adherence to external rules.
- سودی کنم
- that I might profit
- جودی کنم
- that I might bestow bounty/generosity
บทสนทนา — ถามเกี่ยวกับบทกลอนนี้ — ตอบจากมัษนาวี พร้อมอ้างอิงทุกบทกลอน
บทสนทนาของคุณจะอยู่บนอุปกรณ์นี้ เว้นแต่คุณจะแบ่งปัน
สิ่งที่ผู้อ่านถาม0
ยังไม่มีคำถามที่แบ่งปัน — คำถามของคุณอาจเป็นคำถามแรก