อ่าน› Daftar 2› พระเจ้าทรงตำหนิมูซาเกี่ยวกับคนเลี้ยงแกะ› โคลงคู่ 1771
M2:1771 — لَعْل را گر مُهر نبوَد باک نیست / عشق در دریای غم، غمناک نیست
M2:1771
ความหมาย · به زبانِ تو — ภาษาของคุณ · AI
ایک قیمتی پتھر کو اپنی قدر ثابت کرنے کے لیے شاہی مُہر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح، سچا عشق، چاہے غم کے سمندر میں ہی کیوں نہ ڈوبا ہو، غم سے مغلوب نہیں ہوتا کیونکہ اس کی حقیقت غم سے بالاتر ہے۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے قصے کے اس حصے میں آتا ہے جہاں خدا حضرت موسیٰ کو سمجھا رہے ہیں کہ عشق کا راستہ ظاہری آداب اور شریعت کے پیمانوں سے مختلف ہے۔ مولانا رومی یہاں دو مثالوں کے ذریعے اپنی بات واضح کرتے ہیں۔
پہلی مثال لعل (ایک قیمتی سرخ پتھر) کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لعل اپنی ذات میں ہی قیمتی ہے۔ اسے اپنی قدر منوانے کے لیے کسی بادشاہ کی تصدیقی مُہر کی ضرورت نہیں۔ اس کی قیمت اس کے اپنے وجود میں ہے، کسی بیرونی توثیق میں نہیں۔ اسی طرح، عاشق کا عشق اور اس کی خدا سے محبت اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے۔ اسے کسی عالم یا نبی کی تصدیق کی ضرورت نہیں کہ وہ ”صحیح“ ہے یا ”غلط“۔ اس کی سچائی اس کے اپنے سوزِ دروں میں پوشیدہ ہے۔
دوسری مثال عشق کی اپنی کیفیت کے بارے میں ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ عشق غم کے سمندر میں ڈوب کر بھی غمگین نہیں ہوتا۔ یہ ایک بہت گہرا نکتہ ہے۔ ظاہری طور پر، عشق جدائی، تڑپ اور مشکلات کی وجہ سے غم سے بھرا نظر آتا ہے، لیکن اپنی اصل میں عشق ایک ایسی کیفیت ہے جو غم کو بھی ایک لذت میں بدل دیتی ہے۔ عاشق کے لیے محبوب کی راہ میں ملنے والا ہر غم ایک تحفہ ہے، اس لیے وہ غم کو ”غم“ کے طور پر محسوس نہیں کرتا۔ اس کی روح اس تجربے سے مسرور اور زندہ رہتی ہے، بالکل جیسے مچھلی پانی میں رہ کر بھیگتی نہیں۔ عشق غم کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور اسے اپنی توانائی بنا لیتا ہے۔
- لَعْل
- ایک نہایت قیمتی سُرخ رنگ کا پتھر؛ یاقوت۔ یہاں اس سے مراد خالص اور قیمتی شے ہے، جیسے عاشق کا سچا عشق۔
- مُهر
- مُہر، چھاپ، شاہی تصدیق کی علامت۔ یہاں اس سے مراد ظاہری اصولوں، شریعت یا کسی عالم کی طرف سے دی گئی سند ہے۔
- باک
- ڈر، خوف، پرواہ۔
همانطور که ارزش ذاتی لعل به مُهر و تأیید رسمی نیست، ارزش عشق نیز به ظواهر و آداب بستگی ندارد و حتی در دل سختی و غم، اصالت و گوهر خود را از دست نمیدهد.
این بیت در ادامهٔ دفاع خداوند از چوپان سادهدل و توبیخ موسی (ع) آمده است. خداوند با دو تمثیل زیبا، به موسی نشان میدهد که زبان و آیین عشق از قواعد و رسوم ظاهری دین جداست.
در مصرع اول، «لعل» نماد گوهر حقیقی و ارزش ذاتی است. لعل، چه مُهر و نشان سلطنتی بر آن خورده باشد و چه در گمنامی باشد، همچنان لعل است. ارزش آن در خود آن نهفته است، نه در تأیید دیگران. عشقِ چوپان نیز چنین است؛ هرچند با آداب و کلام رسمی پیامبران مُهر نشده باشد، اما در ذات خود خالص و گرانبهاست.
در مصرع دوم، مولانا به یکی از عمیقترین مفاهیم عرفانی اشاره میکند: «عشق در دریای غم، غمناک نیست». عشق حقیقی، نیرویی است که حتی در مواجهه با بزرگترین رنجها و اندوهها، ماهیت خود را که شادی و وصل است، از دست نمیدهد. عاشقی که در دریای غم شنا میکند، مانند غواصی است که آب او را غرق نمیکند. غم برای او تنها پوستهای است که در دل آن، حقیقت شیرین وصال با معشوق نهفته است. بنابراین، عشقِ چوپان، حتی اگر از دید موسی سرشار از «خطا» و «غمِ» دوری به نظر برسد، در باطن خود شاد و متصل است و نیازی به دلسوزی یا اصلاح ندارد.
- لَعْل
- نوعی سنگ قیمتی و سرخرنگ، کنایه از گوهر ارزشمند و اصیل
- مُهر
- مُهر رسمی، نشان تأیید و اعتبار
- باک
- ترس، واهمه، نگرانی
บทสนทนา — ถามเกี่ยวกับบทกลอนนี้ — ตอบจากมัษนาวี พร้อมอ้างอิงทุกบทกลอน
บทสนทนาของคุณจะอยู่บนอุปกรณ์นี้ เว้นแต่คุณจะแบ่งปัน
สิ่งที่ผู้อ่านถาม0
ยังไม่มีคำถามที่แบ่งปัน — คำถามของคุณอาจเป็นคำถามแรก