پڑھیے› دفتر ۵› اس بات کا بیان کہ مخلوق سے تمہیں جو ظلم پہنچے، حقیقت میں وہ ایک آلے کی مانند ہے۔ عارف وہ ہے جو حق کی طرف رجوع کرے نہ کہ آلے کی طرف۔ اور اگر آلے کی طرف رجوع کرے، تو ظاہری طور پر جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی مصلحت کے لیے، جیسا کہ بایزید قدس اللہ سرہ نے کہا کہ کئی سالوں سے میں نے مخلوق سے بات نہیں کی اور نہ مخلوق سے بات سنی ہے، لیکن لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ میں ان سے بات کر رہا ہوں اور ان سے سن رہا ہوں۔ کیونکہ وہ مخاطبِ اکبر کو نہیں دیکھتے جو ان کے لیے محض ایک گونج ہے۔ دانا سننے والے کی توجہ گونج پر نہیں ہوتی، جیسا کہ مشہور مثال ہے: دیوار نے میخ سے کہا، تو مجھے کیوں چیرتا ہے؟ میخ نے کہا، اسے دیکھ جو مجھے ٹھوکتا ہے۔› بیت ۱۷۰۶
M5:1706 — چون قضا آید طبیب ابله شود / وان دوا در نفع هم گمره شود
M5:1706
معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.