پڑھیے› دفتر ۵› اس آیت کی تفسیر کہ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِىَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ (اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ کی زندگی ہے، کاش وہ جانتے) کہ اس عالم کی دیواریں، میدان، پانی، کوزہ، میوے اور درخت سب زندہ ہیں، کلام کرتے ہیں اور کلام سنتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے حضرت مصطفیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ الدنیا جیفۃ و طلابها کلاب (دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طلبگار کتے ہیں)۔ اور اگر آخرت میں حیات نہ ہوتی تو آخرت بھی جیفہ ہوتی۔ جیفہ کو اس کے مردہ ہونے کی وجہ سے جیفہ کہتے ہیں، نہ کہ اس کی بدبو یا نحوست کی وجہ سے› بیت ۳۵۸۵
M5:3585 — آن جهان چون ذره ذره زندهاند / نکتهدانند و سخن گویندهاند
آن جهان چون ذره ذره زندهاندنکتهدانند و سخن گویندهاند
✦ اس بیت کو اردو میں پیش کریں
M5:3585
❋ ❋ ❋
معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
❋
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.