پڑھیے› دفتر ۳› حصہ ۲۱۵ → پچھلا · اگلا ←
بخش ۲۱۵ - فسخ عزایم و نقضها جهت با خبر کردن آدمی را از آنک مالک و قاهر اوست و گاه گاه عزم او را فسخ ناکردن و نافذ داشتن تا طمع او را بر عزم کردن دارد تا باز عزمش را بشکند تا تنبیه بر تنبیه بود
عزم و ارادہ کا ٹوٹنا اور اُس کا فسخ ہونا تاکہ انسان کو خبر ہو کہ اُس کا مالک اور قاہر خدا ہے اور کبھی اُس کے عزم کو فسخ نہ کرنا اور اُسے نافذ کرنا تاکہ وہ عزم کرنے کی طمع کرے اور پھر اُس کے عزم کو توڑ دے تاکہ تنبیہ پر تنبیہ ہو
- M3:4461 عزمها و قصدها در ماجراگاه گاهی راست میآید ترا
- M3:4462 تا به طمع آن دلت نیت کندبار دیگر نیتت را بشکند
- M3:4463 ور بکلی بیمرادت داشتیدل شدی نومید امل کی کاشتی
- M3:4464 ور بکاریدی امل از عوریشکی شدی پیدا برو مقهوریش
- M3:4465 عاشقان از بیمرادیهای خویشباخبر گشتند از مولای خویش
- M3:4466 بیمرادی شد قلاوز بهشتحفت الجنه شنو ای خوش سرشت
- M3:4467 که مراداتت همه اشکستهپاستپس کسی باشد که کام او رواست
- M3:4468 پس شدند اشکستهاش آن صادقانلیک کو خود آن شکست عاشقان
- M3:4469 عاقلان اشکستهاش از اضطرارعاشقان اشکسته با صد اختیار
- M3:4470 عاقلانش بندگان بندیاندعاشقانش شکری و قندیاند
- M3:4471 ائتیا کرها مهار عاقلانائتیا طوعا بهار بیدلان