پڑھیے دفتر ۵ حصہ ۱۱۸ → پچھلا · اگلا ←

بخش ۱۱۸ - اشارت آمدن از غیب به شیخ کی این دو سال به فرمان ما بستدی و بدادی بعد ازین بده و مستان دست در زیر حصیر می‌کن کی آن را چون انبان بوهریره کردیم در حق تو هر چه خواهی بیابی تا یقین شود عالمیان را کی ورای این عالمیست کی خاک به کف گیری زر شود مرده درو آید زنده شود نحس اکبر در وی آید سعد اکبر شود کفر درو آید ایمان گردد زهر درو آید تریاق شود نه داخل این عالمست و نه خارج این عالم نه تحت و نه فوق نه متصل نه منفصل بی‌چون و بی چگونه هر دم ازو هزاران اثر و نمونه ظاهر می‌شود چنانک صنعت دست با صورت دست و غمزهٔ چشم با صورت چشم و فصاحت زبان با صورت زبان نه داخلست و نه خارج او نه متصل و نه منفصل والعاقل تکفیه الاشارة

غیب سے شیخ کو اشارہ آیا کہ تم نے یہ دو سال ہمارے حکم سے لیا اور دیا، اس کے بعد دو اور نہ لو۔ ہاتھ چٹائی کے نیچے ڈالو، کہ ہم نے اسے تمہارے حق میں ابو ہریرہ کی تھیلی کی طرح بنا دیا ہے، جو چاہو گے پاؤ گے، تاکہ اہل دنیا کو یقین ہو جائے کہ اس دنیا کے علاوہ بھی ایک عالم ہے جہاں مٹی کو ہاتھ لگاؤ تو سونا بن جائے، مردہ اس میں داخل ہو تو زندہ ہو جائے، نحوست اکبر اس میں داخل ہو تو سعادت اکبر ہو جائے، کفر اس میں داخل ہو تو ایمان ہو جائے، زہر اس میں داخل ہو تو تریاق ہو جائے۔ نہ یہ اس عالم کے اندر ہے اور نہ اس عالم کے باہر، نہ نیچے اور نہ اوپر، نہ متصل اور نہ منفصل، بے چون و بے کیسے، ہر لمحہ اس سے ہزاروں اثرات اور نمونے ظاہر ہوتے ہیں، جیسا کہ ہاتھ کی صنعت ہاتھ کی صورت کے ساتھ اور آنکھ کی غمزہ آنکھ کی صورت کے ساتھ اور زبان کی فصاحت زبان کی صورت کے ساتھ نہ اندر ہے اور نہ باہر، نہ متصل اور نہ منفصل۔ اور عاقل کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔

  1. M5:2782 تا دو سال این کار کرد آن مرد کاربعد از آن امر آمدش از کردگار
  2. M5:2783 بعد ازین می‌ده ولی از کس مخواهما بدادیمت ز غیب این دستگاه
  3. M5:2784 هر که خواهد از تو از یک تا هزاردست در زیر حصیری کن بر آر
  4. M5:2785 هین ز گنج رحمت بی‌مر بدهدر کف تو خاک گردد زر بده
  5. M5:2786 هر چه خواهندت بده مندیش از آنداد یزدان را تو بیش از بیش دان
  6. M5:2787 دست زیر بوریا کن ای سنداز برای روی‌پوش چشم بد
  7. M5:2788 پس ز زیر بوریا پر کن تو مشتده به دست سایل بشکسته پشت
  8. M5:2789 بعد ازین از اجر ناممنون بدههر که خواهد گوهر مکنون بده
  9. M5:2790 رو ید الله فوق ایدیهم تو باشهم‌چو دست حق گزافی رزق پاش
  10. M5:2791 وام داران را ز عهده وا رهانهم‌چو باران سبز کن فرش جهان
  11. M5:2792 بود یک سال دگر کارش همینکه بدادی زر ز کیسهٔ رب دین
  12. M5:2793 زر شدی خاک سیه اندر کفشحاتم طایی گدایی در صفش