پڑھیے› دفتر ۵› حصہ ۱۵۵ → پچھلا · اگلا ←
بخش ۱۵۵ - تمثیل تن آدمی به مهمانخانه و اندیشههای مختلف به مهمانان مختلف عارف در رضا بدان اندیشههای غم و شادی چون شخص مهماندوست غریبنواز خلیلوار کی در خلیل باکرام ضیف پیوسته باز بود بر کافر و مؤمن و امین و خاین و با همه مهمانان روی تازه داشتی
آدمی کے جسم کی مثال مہمان خانے سے اور مختلف خیالات کی مثال مختلف مہمانوں سے دینا۔ عارف کا غم اور خوشی کے ان خیالات پر اس مہمان نواز اور غریب نواز خلیل جیسی رضا میں رہنا جیسے خلیل علیہ السلام کا گھر مہمانوں کے لیے کھلا رہتا تھا، کافر و مومن، امین و خائن سب کے لیے، اور وہ ہر مہمان سے ہنستے ہوئے ملتے تھے