پڑھیے› دفتر ۵› حصہ ۶۰ → پچھلا · اگلا ←
بخش ۶۰ - تمثیل تلقین شیخ مریدان را و پیغامبر امت را کی ایشان طاقت تلقین حق ندارند و با حقالف ندارند چنانک طوطی با صورت آدمی الف ندارد کی ازو تلقین تواند گرفت حق تعالی شیخ را چون آیینهای پیش مرید همچو طوطی دارد و از پس آینه تلقین میکند لا تحرک به لسانک ان هو الا وحی یوحی اینست ابتدای مسلهٔ بیمنتهی چنانک منقار جنبانیدن طوطی اندرون آینه کی خیالش میخوانی بیاختیار و تصرف اوست عکس خواندن طوطی برونی کی متعلمست نه عکس آن معلم کی پس آینه است و لیکن خواندن طوطی برونی تصرف آن معلم است پس این مثال آمد نه مثل
شیخ کا مریدوں کو تلقین کرنے کی مثال اور پیغمبر کا امت کو تلقین کرنے کی مثال کہ وہ حق کی تلقین کی طاقت نہیں رکھتے اور حق سے الفت نہیں رکھتے، جیسے طوطی کو انسان کی صورت سے الفت نہیں ہوتی کہ اس سے تلقین لے سکے۔ حق تعالیٰ نے شیخ کو مرید کے سامنے آئینے کی طرح رکھا ہے جیسے طوطی اور آئینے کے پیچھے سے تلقین کرتا ہے لا تحرک بہ لسانک ان هو الا وحی یوحی۔ یہ بے انتہا مسئلے کا آغاز ہے، جیسے طوطی کا منہ ہلانا آئینے کے اندر، جسے تم خیال کہتے ہو، اس کے اختیار اور تصرف کے بغیر ہے۔ یہ باہر والے طوطی کا پڑھنا ہے جو متعلم ہے، نہ کہ اس استاد کا عکس جو آئینے کے پیچھے ہے۔ لیکن باہر والے طوطی کا پڑھنا اس استاد کا تصرف ہے۔ پس یہ مثال ہے نہ کہ مثل۔
- M5:1429 طوطیی در آینه میبیند اوعکس خود را پیش او آورده رو
- M5:1430 در پس آیینه آن استا نهانحرف میگوید ادیب خوشزبان
- M5:1431 طوطیک پنداشته کین گفت پستگفتن طوطیست که اندر آینهست
- M5:1432 پس ز جنس خویش آموزد سخنبیخبر از مکر آن گرگ کهن
- M5:1433 از پس آیینه میآموزدشورنه ناموزد جز از جنس خودش
- M5:1434 گفت را آموخت زان مرد هنرلیک از معنی و سرش بیخبر
- M5:1435 از بشر بگرفت منطق یک به یکاز بشر جز این چه داند طوطیک
- M5:1436 همچنان در آینهٔ جسم ولیخویش را بیند مردی ممتلی
- M5:1437 از پس آیینه عقل کل راکی ببیند وقت گفت و ماجرا
- M5:1438 او گمان دارد که میگوید بشروان اگر سرست و او زان بیخبر
- M5:1439 حرف آموزد ولی سر قدیماو نداند طوطی است او نی ندیم
- M5:1440 هم صفیر مرغ آموزند خلقکین سخن کار دهان افتاد و حلق
- M5:1441 لیک از معنی مرغان بیخبرجز سلیمان قرانی خوشنظر
- M5:1442 حرف درویشان بسی آموختندمنبر و محفل بدان افروختند
- M5:1443 یا به جز آن حرفشان روزی نبودیا در آخر رحمت آمد ره نمود