مثنوی پڑھیے پوچھیے EnglishفارسیEspañolFrançaisDeutschNederlandsTürkçeالعربيةاردوहिन्दीРусскийBahasa Indonesia中文日本語ItalianoPortuguês한국어BosanskiAzərbaycancaOʻzbekchaТоҷикӣدریবাংলাپښتو繁體中文SvenskaRomânăSuomiУкраїнськаไทยFilipino ▾ Aa متن کا سائز A− A+ ترجمہ کا فونٹ Aa Aa سطروں کا فاصلہ بیت کے نیچے ترجمہ معنی و شرح سیدھ حرکت شیشہ ری سیٹ ☀☾ × پڑھیے› دفتر ۵› حصہ ۹۹ → پچھلا · اگلا ← بخش ۹۹ - جواب گفتن خر روباه را گدھے کا لومڑی کو جواب دینا۔ اصل اردو دونوں ✦ اس پورے حصے کو اپنی زبان میں پڑھیے 0/4 M5:2395 گفت این معکوس میگویی بدانشور و شر از طمع آید سوی جان M5:2396 از قناعت هیچ کس بیجان نشداز حریصی هیچ کس سلطان نشد M5:2397 نان ز خوکان و سگان نبود دریغکسپ مردم نیست این باران و میغ M5:2398 آنچنان که عاشقی بر رزق زارهست عاشق رزق هم بر رزقخوار Ask خلاصہ اور پیغام تفصیلی شرح پچھلابخش ۹۸ - جواب گفتن روبه خر رالومڑی کا گدھے کو جواب دینا۔ اگلابخش ۱۰۰ - در تقریر معنی توکل حکایت آن زاهد کی توکل را امتحان میکرد از میان اسباب و شهر برون آمد و از قوارع و رهگذر خلق دور شد و ببن کوهی مهجوری مفقودی در غایت گرسنگی سر بر سر سنگی نهاد و خفت و با خود گفت توکل کردم بر سببسازی و رزاقی تو و از اسباب منقطع شدم تا ببینم سببیت توکل راتوکل کے معنی کی تشریح میں ایک زاہد کی حکایت جس نے توکل کو آزمانا چاہا، اسباب اور شہر سے باہر نکلا اور لوگوں کی آمدورفت سے دور، ایک ویران اور گمشدہ پہاڑ کے دامن میں شدید بھوک کی حالت میں اپنا سر ایک پتھر پر رکھا اور سو گیا۔ اور اپنے آپ سے کہا: میں نے تیری سبب سازی اور رزاقی پر توکل کیا اور اسباب سے منقطع ہو گیا تاکہ توکل کی سببیت کو دیکھوں۔