اقرأ› دفتر ٤› قصة شكوى البغلة إلى الجمل: 'أنا أتعثر كثيرًا في المشي، وأنت قليلًا ما تتعثر، لماذا؟' وجواب الجمل لها› بيت ٣٣٨٩
M4:3389 — از سر که من ببینم پای کوه / هر گو و هموار را من توه توه
M4:3389
المعنى والشرح · به زبانِ تو — بلغتك · AI
اونٹ یہ سمجھاتا ہے کہ اس کا سر اونچا ہونے کی وجہ سے وہ دور تک دیکھ سکتا ہے، جس سے اسے راستے کی دشواریوں کا پہلے سے علم ہو جاتا ہے۔
یہ شعر اونٹ اور گدھے کی کہانی سے لیا گیا ہے جہاں گدھا اونٹ سے شکایت کرتا ہے کہ وہ راستے میں بار بار گرتا ہے جبکہ اونٹ نہیں گرتا۔ اس پر اونٹ جواب دیتا ہے کہ اس کی اونچی گردن اور بلند نگاہ اسے یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ دور سے ہی پہاڑ کے دامن اور راستے کی ہر اونچ نیچ کو واضح طور پر دیکھ لے۔ یہ استعارہ ایک مومن کی بصیرت کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص نور عطا ہوتا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے حال کو بلکہ مستقبل کی مشکلات اور راستے کی رکاوٹوں کو بھی پہلے سے بھانپ لیتا ہے۔ یہ روحانی بصیرت اسے دنیاوی لغزشوں اور فتنوں سے بچاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اونٹ اپنی بلند نگاہ کی وجہ سے راستے کے خطرات سے محفوظ رہتا ہے۔
- سرِ کوہ
- پہاڑ کی چوٹی، بلندی
- پای کوہ
- پہاڑ کی تلی، دامن
- گو
- اونچی جگہ، بلندی
- ہموار
- ہموار جگہ، پستی
- توه توه
- واضح طور پر، صاف صاف
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.