لوستل› دفتر ۳› د هاروت او ماروت کیسه او د حق تعالی په ازموینې باندې د هغوی زړورتیا› بيت ۸۱۴
M3:814 — چونک بجهد در فتد اندر میان / در میان هر دو کوه بی امان
M3:814
مانا · به زبانِ تو — ستاسو ژبه · AI
جب پہاڑی بکرا شہوت کے نشے میں دھت ہو کر ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ کی طرف چھلانگ لگاتا ہے، تو وہ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کی گہری وادی میں گر جاتا ہے۔
یہ شعر مولانا رومی کی اس تمثیل کا حصہ ہے جس میں وہ شہوت کے نشے میں دھت انسان کی حالت کو ایک پہاڑی بکرے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس کہانی میں، ایک پہاڑی بکرا جو شکاریوں سے بچ کر پہاڑوں میں چھپا ہوا ہے، اچانک دوسرے پہاڑ پر ایک مادہ بکری کو دیکھتا ہے۔ شہوت کے نشے میں اس کی آنکھیں دھندلا جاتی ہیں اور اسے دونوں پہاڑوں کا درمیانی فاصلہ بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ وہ اس قدر مست ہو جاتا ہے کہ اسے ہزاروں گز کا فاصلہ محض دو گز معلوم ہوتا ہے، اور وہ بے تحاشا چھلانگ لگا دیتا ہے۔
یہ شعر اس چھلانگ کے نتیجے کو بیان کرتا ہے: بکرا، جو اپنی جان بچانے کے لیے پہاڑوں میں پناہ لیے ہوئے تھا، اب اپنی ہی شہوت کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتا ہے اور دونوں پہاڑوں کے درمیان گہری کھائی میں گر کر شکاریوں کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ مولانا اس کے ذریعے یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ انسان بھی جب اپنی نفسانی خواہشات اور شہوت کے نشے میں دھت ہو جاتا ہے تو وہ حقائق کو صحیح طرح سے نہیں دیکھ پاتا۔ اسے خطرات معمولی اور فاصلے کم دکھائی دیتے ہیں، اور وہ بغیر سوچے سمجھے ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جو بالآخر اس کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ یہ ایک گہرا اخلاقی اور صوفیانہ سبق ہے کہ شہوت انسان کی عقل اور بصیرت کو کیسے سلب کر لیتی ہے۔
- بجهد
- چھلانگ لگاتا ہے، جست لگاتا ہے
- اندر میان
- درمیان میں، بیچ میں
- بی امان
- بے رحم، بے محابا، بغیر کسی رکاوٹ کے
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.