Čitaj› Knjiga 1› Tefsir ajeta 'Vratili smo se iz manjeg džihada u veći džihad'› Bejt 1385
M1:1385 — سیر گشتی سیر، گوید نه هنوز / اینت آتش اینت تابش اینت سوز
M1:1385
Značenje · به زبانِ تو — Tvoj jezik · AI
جب حق تعالیٰ دوزخ (یعنی نفس) سے پوچھتا ہے کہ کیا تُو بھر گئی؟ تو وہ جواب دیتی ہے کہ ”ابھی نہیں۔“ مولانا کہتے ہیں کہ نفس کی یہی نہ بجھنے والی آگ، یہی تپش اور یہی جلن ہے۔
یہ شعر اس تمثیل کا حصہ ہے جہاں مولانا رومی انسانی نفس (نفسِ امارہ) کو دوزخ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جس طرح دوزخ میں سات سمندر، پتھر اور کافر ڈالے جانے کے باوجود اس کی بھوک نہیں مٹتی، اسی طرح انسان کا نفس بھی خواہشات سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔
اس شعر میں اللہ اور دوزخ کے درمیان ایک مکالمہ بیان کیا گیا ہے، جو دراصل انسان اور اس کے نہ بھرنے والے نفس کے درمیان کشمکش کی علامت ہے۔ حق تعالیٰ پوچھتا ہے، ”کیا تُو سیر ہو گئی؟“ اور نفس کا جواب ہمیشہ نفی میں ہوتا ہے: ”نہیں، ابھی نہیں۔“ یہ قرآن کی آیت ”هَلِ امْتَلَأْتِ“ (کیا تُو بھر گئی؟) اور دوزخ کے جواب ”هَلْ مِنْ مَزِيدٍ“ (کیا کچھ اور ہے؟) کی طرف اشارہ ہے۔
دوسرا مصرع اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ نفس کی فطرت ہی آگ کی سی ہے۔ اس کی پہچان ہی اس کی تپش (تابش) اور جلن (سوز) ہے۔ یہ کوئی عارضی حالت نہیں بلکہ اس کی اصل خصلت ہے۔ جب تک انسان اس نفسانی آگ کو نہیں پہچانتا، وہ ”جہادِ اکبر“ یعنی اپنے باطن کی سب سے بڑی لڑائی میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
- سیر گشتی سیر
- تُو سیر ہو گئی؟ (سوالیہ انداز میں)؛ اے شکم سیر، کیا تُو بھر گئی؟
- اینت
- یہی ہے تیرے لیے؛ یہ لے؛ دیکھ یہ ہے۔ (این است تو کا مخفف)
- تابش
- تپش، حرارت، چمک، گرمی۔
当真主质问地狱(象征着人的贪婪私欲)是否已经满足时,它永不满足地回答“还没有”,并展现出其永恒燃烧的本质。
这节诗是鲁米对人性中永不满足的欲望——即“纳夫斯”(nafs,或译“自我”、“私欲”)——的生动描绘。在上下文中,他将纳夫斯比作地狱本身,两者都具有吞噬一切却永不饱足的特性。
第一行诗以对话形式展开,是真主对地狱的质问:“你饱了吗?”地狱的回答“还未曾”(نه هنوز)直接呼应了《古兰经》中地狱永不餍足的形象(“هل من مزيد”——“还有更多吗?”)。这种不知满足的状态,正是“大战”(جهاد اکبر)的核心挑战——对抗内在无穷的欲望,这比战胜外在的敌人(“小战”,جهاد اصغر)要困难得多。
第二行诗则揭示了这种欲望的本质。“这便是火,这便是光,这便是焚烧之痛。”(اینت آتش اینت تابش اینت سوز)这三个词层层递进:欲望是“火”(آتش),具有毁灭性;它散发着诱人的“光”(تابش),吸引着飞蛾扑火般的灵魂;其最终结果是无尽的“焚烧之痛”(سوز),既折磨自身也灼伤他人。鲁米在此提醒我们,纳夫斯的本质就是一种永恒燃烧、永不满足的痛苦之源,除非有神圣的干预(如后文提到的,真主用祂的“脚”踏上地狱),否则它永无宁日。
- اینت
- 古波斯语用法,意为“这便是你(所见)的”或“看啊,这是”。在诗中用于强调和呈现某个事物,相当于“这便是”、“这就是”。
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.