Lesen› Buch 1› Die Geschichte des Grammatikers und des Bootsmannes› Vers 2853
M1:2853 — گر تو علامه زمانی در جهان / نک فنای این جهان بین وین زمان
M1:2853
Bedeutung · به زبانِ تو — Deine Sprache · AI
تمہاری تمام دنیاوی اور رسمی علمیت بے کار ہے اگر تم اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ یہ دنیا اور اس کا ہر لمحہ فنا ہو رہا ہے۔
یہ شعر نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے اختتام پر آیا ہے۔ نحوی، جو اپنے علمِ صرف و نحو پر بہت نازاں تھا، سمندر میں ڈوب رہا ہے کیونکہ اسے تیرنا نہیں آتا۔ کشتی بان، جو جاہل تھا مگر عملی حکمت رکھتا تھا، اسے طعنہ دیتا ہے۔
مولانا اس واقعے سے ایک گہرا صوفیانہ نکتہ نکالتے ہیں: اصل علم رسمی یا کتابی علم نہیں، بلکہ خود شناسی اور حقیقتِ ہستی کا ادراک ہے۔ نحوی 'علامۂ زماں' (اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم) ہو سکتا ہے، لیکن اس کا علم اسے موت سے نہیں بچا سکتا۔ اصل بصیرت یہ دیکھنا ہے کہ یہ مادی دنیا ('این جہاں') اور وقت کا ہر لمحہ ('این زمان') فنا کی زد میں ہے۔
یہاں 'فنا' سے مراد صرف طبعی موت نہیں، بلکہ صوفیانہ اصطلاح میں اپنی انا اور ذات کو حقیقتِ کبریٰ میں مٹا دینا ہے۔ مولانا کہہ رہے ہیں کہ اصل علم 'علمِ محو' ہے، 'علمِ نحو' نہیں۔ جب تک انسان اپنی علمی قابلیت کے زعم میں مبتلا ہے، وہ اس بڑی حقیقت سے بے خبر رہتا ہے کہ بقا صرف فنا میں ہے۔
- علامهٔ زمانی
- اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم؛ وقت کا سب سے بڑا فاضل شخص۔
- نک
- ایک قدیم فارسی حرف جس کا مطلب ہے 'دیکھ'، 'غور کر'، یا 'یہ لے'۔ تاکید اور توجہ دلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
- فنا
- لغوی معنی: مٹ جانا، ختم ہو جانا۔ صوفیانہ اصطلاح میں: اپنی انفرادی ہستی اور انا کو ذاتِ الٰہی میں گم کر دینا۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.