Lesen› Buch 2› Gottes Tadel an Moses, Friede sei auf ihm, wegen des Hirten› Vers 1753
M2:1753 — هر کسی را سیرتی بنهادهام / هر کسی را اصطلاحی دادهام
M2:1753
Bedeutung · به زبانِ تو — Deine Sprache · AI
خدا حضرت موسیٰ سے فرما رہا ہے کہ میں نے ہر انسان کو ایک منفرد باطنی فطرت (سیرت) اور ایک مخصوص طریقۂ اظہار (اصطلاح) عطا کیا ہے۔
یہ شعر اس کہانی کے مرکزی نقطے کی وضاحت کرتا ہے جہاں خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک چرواہے پر سختی کرنے کی وجہ سے سرزنش کر رہا ہے۔ چرواہے کی دعا ظاہری طور پر بےادبانہ اور غلط تھی، لیکن اس کا دل سچا تھا۔ یہاں خدا یہ اصول بیان فرما رہا ہے کہ ہر فرد کا روحانی مزاج اور خدا سے تعلق قائم کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔
سیرت سے مراد انسان کی اندرونی طبیعت، اس کا روحانی مزاج اور کردار ہے۔ اصطلاح سے مراد اس کا ظاہری انداز، اس کی زبان، اور اس کے اظہار کا طریقہ ہے۔ رومی یہ واضح کر رہے ہیں کہ خدا ظاہری الفاظ اور رسوم سے زیادہ نیت اور باطنی کیفیت کو اہمیت دیتا ہے۔
لہٰذا، حضرت موسیٰ کا شریعت کے ظاہری پیمانے کو چرواہے کی سادہ اور پُرخلوص محبت پر لاگو کرنا ایک غلطی تھی۔ خدا کے نزدیک، ہر شخص کی عبادت اس کی اپنی فہم اور خلوص کے مطابق قبول کی جاتی ہے۔ یہ بیت تصوف کے اس بنیادی خیال پر زور دیتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے راستے الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن سب کی بنیاد سچی محبت اور خلوص پر ہونی چاہیے۔
- سیرت
- باطنی فطرت، اندرونی خصلت، کردار، روحانی مزاج۔
- بنهادهام
- میں نے رکھا ہے، میں نے قائم کیا ہے، میں نے عطا کیا ہے۔
- اصطلاح
- مخصوص اندازِ بیاں، طریقۂ اظہار، کسی گروہ کا خاص اسلوب یا زبان۔
خداوند به موسی میگوید که من برای هر فردی، طبیعت درونی و راهی منحصر به فرد برای ارتباط با من تعیین کردهام و هر کس با زبان و بیان خاص خود با من سخن میگوید.
این بیت بخشی از پاسخ خداوند به حضرت موسی است. موسی چوپانی را به خاطر شیوۀ ساده و به ظاهر کفرآمیزش در پرستش خداوند سرزنش کرده بود. خداوند در اینجا به موسی یادآوری میکند که گوناگونی در میان انسانها، بخشی از آفرینش الهی است. هر فردی «سیرت» یا طبیعت و منش درونیِ ویژۀ خود را دارد و متناسب با همان سیرت، «اصطلاح» یا زبان و شیوۀ بیانی خاص خود را برای ارتباط با معبود به کار میگیرد.
مولانا با این بیت بر اصل بنیادین تکثرگرایی در مسیرهای روحانی تأکید میکند. از دیدگاه او، آنچه اهمیت دارد، «حال» و صدق درونی فرد است، نه صرفاً «قال» و صورت بیرونی عبادت. خداوند به شکل ظاهری کلمات نگاه نمیکند، بلکه به جوهرۀ دل و روان انسان مینگرد. بنابراین، زبان عاشقانۀ چوپان که از عمق جانش برمیخاست، نزد خداوند پذیرفتهتر از انتقاد عالمانۀ موسی بود که از سر غفلت نسبت به این حقیقت بیان شد. این بیت دعوتی است به احترام گذاشتن به راههای گوناگون سلوک و پرهیز از قضاوت دیگران بر اساس معیارهای شخصی خود.
- سیرت
- روش، طریقه، مَنِش، طبیعت و خوی درونی
- بنهادهام
- قرار دادهام، وضع کردهام، بنا نهادهام
- اصطلاح
- در اینجا به معنی زبان، بیان، و شیوۀ خاص سخن گفتن
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.