Lesen› Buch 2› Gottes Tadel an Moses, Friede sei auf ihm, wegen des Hirten› Vers 1769
M2:1769 — تو ز سَرمَستان قَلاوُزی مجو / جامهچاکان را چه فرمایی رَفو؟
M2:1769
Bedeutung · به زبانِ تو — Deine Sprache · AI
اے موسیٰ، جو لوگ عشقِ الٰہی میں مست ہیں، اُن سے ظاہری آداب اور رہنمائی کی توقع نہ رکھو۔ بھلا جن کے گریبان عشق میں چاک ہو چکے ہوں، اُنہیں کوئی سینے اور مرمت کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟
یہ شعر اُس حکایت کا حصہ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک چرواہے کو اُس کی سادہ لوح اور بظاہر گستاخانہ دعا پر ڈانٹتے ہیں، اور پھر اللہ تعالیٰ موسیٰ کو اس بات پر تنبیہ فرماتا ہے۔
اس شعر میں مولانا رومی دو طاقتور تشبیہات استعمال کرتے ہیں۔ پہلی یہ کہ عشقِ الٰہی میں ڈوبے ہوئے لوگ "سرمست" یعنی نشے میں چُور لوگوں کی طرح ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک مخمور شخص سے سیدھے راستے کی رہنمائی نہیں مانگی جا سکتی، اُسی طرح ایک عاشق سے بھی ظاہری شریعت کے تمام آداب کی پابندی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ اُن کا باطن حال اور کیفیت کے تابع ہوتا ہے، الفاظ اور اصول کے نہیں۔
دوسری تشبیہ "جامہ چاکاں" کی ہے، یعنی وہ لوگ جن کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوں۔ یہ صوفیانہ شاعری میں وجد اور دیوانگی کی علامت ہے۔ جب کوئی عشق کی شدت سے اپنا گریبان پھاڑ لے تو اُسے سلائی یا مرمت کا حکم دینا بےمعنی اور اُس کے حال سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ یہ سوال دراصل ایک تنبیہ ہے کہ عاشقوں کے ظاہری اعمال کو شریعت کے پیمانے سے ناپنا ایسا ہی ہے جیسے کسی دیوانے کو اُس کے پھٹے کپڑوں پر شرمندہ کرنا۔ اصل بات اُن کا باطنی سوز اور سچی محبت ہے، نہ کہ ظاہری الفاظ کی درستگی۔
- سَرمَستان
- وہ لوگ جو عشقِ الٰہی میں مست یا بے خود ہوں۔ صوفیانہ اصطلاح میں، وہ عارف جو وجد و حال کی کیفیت میں ہو۔
- قَلاوُزی
- رہبری، رہنمائی کرنا۔ یہ لفظ 'قلاووز' سے بنا ہے جس کا مطلب رہنما یا لشکر کے آگے چلنے والا سپاہی ہے۔
- جامهچاکان
- جنہوں نے اپنے کپڑے پھاڑ لیے ہوں؛ یہ عشق، غم یا وجد کی شدت کی علامت ہے۔
- رَفو
- پھٹے ہوئے کپڑے کو سینا، مرمت کرنا۔
از عاشقانِ سرمست و بیخود از عشق حق، نباید انتظار داشت که راه و رسم و آداب ظاهری را رعایت کنند، همانطور که از کسی که در اوج شوریدگی جامهاش را پاره کرده، نمیتوان خواست که آن را بدوزد.
این بیت در ادامهٔ عتاب خداوند به موسی (ع) است که چرا بر زبان ساده و عاشقانۀ شبان خرده گرفته بود. خداوند در اینجا با دو تمثیل روشن، تفاوت میان حال عاشقان و قوانین عابدان را بیان میکند.
مصرع اول: «تو ز سرمستان قلاوزی مجو» «سرمستان» کسانی هستند که از شراب عشق الهی سرمست شده و از خود بیخود گشتهاند. اینان دیگر تابع عقل حسابگر و آداب و رسوم ظاهری نیستند. «قلاوزی» به معنای راهنمایی، رهبری و پیروی از یک راه مشخص و قانونمند است. خداوند به موسی میگوید که از چنین فردی که در دریای عشق غرق است، نباید انتظار داشته باشی که مانند یک راهبر یا یک فرد تابع آداب، قدم بردارد و سخن بگوید. منطق او، منطق عشق است، نه منطق شریعت ظاهری.
مصرع دوم: «جامهچاکان را چه فرمایی رفو؟» «جامهچاکان» نیز اشاره به همان حال بیخویشی و شوریدگی عارفانه دارد. پاره کردن جامه در فرهنگ آن زمان، نشانۀ نهایتِ هیجان، بیقراری و خروج از حالت عادی بود. «رفو» کردن، عمل ترمیم، اصلاح و بازگرداندن به حالت اولیه و منظم است. این پرسش، یک پرسش انکاری است: آیا عاقلانه است به کسی که در اوج شور و وجد، جامهاش را دریده، دستور دهی که آرام بنشیند و آن را وصله کند؟ این کار نه تنها بیهوده، بلکه بیتوجهی به حال درونی اوست. عمل او نتیجۀ حال اوست، نه یک خطای نیازمند به اصلاح.
بنابراین، پیام اصلی بیت این است که اعمال و گفتار عاشقان را نباید با معیار عقل و آداب ظاهری سنجید. حال درونی آنها، خود بالاترین قانون است و تلاش برای اصلاح ظاهرشان، نادیده گرفتن آن حقیقت سوزان درونی است.
- سَرمَستان
- کسانی که از عشق الهی مست و بیخود شدهاند؛ عارفان شوریده حال.
- قَلاوُزی
- راهنمایی، رهبری، پیشوایی.
- جامهچاکان
- کسانی که در حالت وجد و شور عارفانه، لباس خود را پاره کردهاند؛ کنایه از عاشقان بیقرار.
- رَفو
- وصله زدن، دوختن پارگی لباس، ترمیم کردن.
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.