Leer› Libro 1› Interpretación de 'Hemos regresado de la yihad menor a la yihad mayor'› Verso 1383
M1:1383 — سنگها و کافرانِ سنگدل / اندر آیند اندرو زار و خجل
M1:1383
Significado · به زبانِ تو — Tu idioma · AI
یہ نفس، جو دوزخ کی مانند ہے، پتھروں اور سنگ دل کافروں کو بھی اپنے اندر نگل لیتا ہے، جو وہاں زار و قطار اور شرمندہ ہو کر داخل ہوتے ہیں۔
یہاں مولانا رومی "جہادِ اکبر" یعنی نفس کے خلاف جنگ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ وہ نفسِ امّارہ کو دوزخ سے تشبیہ دیتے ہیں، جو ایک ایسا اژدہا ہے جس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ پچھلے شعر میں انہوں نے کہا کہ یہ نفس سات سمندر پی کر بھی سیر نہیں ہوتا۔
اس شعر میں وہ دوزخ کی تصویر مکمل کرتے ہیں، جو قرآن کی آیات (مثلاً سورۃ الفرقان، آیت ۱۳ اور سورۃ التحریم، آیت ۶) کی طرف اشارہ ہے، جہاں ذکر ہے کہ دوزخ کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ مولانا کہتے ہیں کہ جس طرح حقیقی دوزخ میں پتھر اور سنگ دل کافر ڈالے جائیں گے، اسی طرح یہ نفسانی دوزخ بھی ہر چیز کو، خواہ وہ بے جان پتھر ہو یا سخت دل انسان، اپنی آگ کا لقمہ بنا لیتا ہے۔
یہاں "زار و خجل" (روتے ہوئے اور شرمندہ) کا ذکر اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب کوئی شے نفس کے قابو میں آ جاتی ہے تو اپنی اصل فطرت اور وقار کھو کر ذلیل و خوار ہو جاتی ہے۔ یہ شعر نفس کی ہلاکت خیزی اور اس کی بھوک کی شدت کو بیان کرتا ہے کہ وہ کسی چیز کو نہیں بخشتا اور ہر شے کو اپنی آگ میں جلا کر بے وقعت کر دیتا ہے۔
- سنگدل
- پتھر دل، سخت دل، بے رحم۔
- اندر آیند
- اندر آئیں گے، داخل ہوں گے۔
- اندرو
- اس کے اندر۔ یہاں مراد نفس یا دوزخ ہے۔
- زار
- روتا ہوا، آہ و زاری کرتا ہوا، بے بس۔
- خجل
- شرمندہ، نادم۔
这节诗描绘了地狱(以及作为其缩影的“自我”)永不满足的胃口,连最坚硬、最无情的东西——石头和心如铁石的悖信者——都会被它吞噬。
这节诗出自鲁米对“大圣战”(al-jihād al-akbar)的阐释,即与内在“自我”(nafs)的斗争。在此,鲁米将“自我”比作地狱(dūzakh),一个永不满足的巨龙。前文说它能饮尽七海而烈焰不减,这节诗则进一步描绘其恐怖的吞噬力。
它不仅吞噬有罪之人,甚至连无生命的“岩石”和那些“铁石心肠的悖信之人”(kāfirān-e sang-del)——那些因内心坚硬而远离信仰的人——也会被投入其中。他们进入时“哀哭着、羞惭地”(zār o khejel),这画面强调了地狱的威严与“自我”欲望的毁灭性力量。鲁米在此引用了《古兰经》中地狱以石头和人为燃料的意象,旨在说明“自我”的欲望深渊是何等巨大,若不加以控制,它会吞噬一切,无论坚硬或柔软,有情或无情。
这个比喻的核心在于:正如地狱只有在真主亲自介入时才会平息,我们内在那个地狱般的“自我”也同样无法单靠自己的理智或意志来征服。只有借助神圣的力量,这场“大圣战”才可能取得胜利。
- کافرانِ سنگدل
- 字面意为“铁石心肠的悖信之人”。“Kāfir”指悖信者、不信神者。“Sang-del”是由“sang”(石头)和“del”(心)组成的复合词,形容冷酷无情、冥顽不化。
- خجل
- 一个阿拉伯语借词,意为“羞愧的”、“惭愧的”。在此处,与“zār”(哀哭的,悲惨的)并用,描绘了被投入地狱者悔恨交加的惨状。
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.