Leer› Libro 1› Sobre cómo Moisés y Faraón están ambos sometidos a la voluntad divina, así como el veneno y el antídoto, y la oscuridad y la luz; y la súplica secreta de Faraón para no romper el decoro› Verso 2458
M1:2458 — زانک موسی را تو مهرو کردهای / ماه جانم را سیهرو کردهای
M1:2458
Significado · به زبانِ تو — Tu idioma · AI
اے خدا، یہ تیرا ہی فیصلہ ہے کہ موسیٰ کو عزت اور نور عطا ہوا، جبکہ میری روح ذلت اور تاریکی میں ڈوب گئی ہے۔
یہ شعر فرعون کی اُس خفیہ مناجات کا حصہ ہے جو وہ رات کی تنہائی میں خدا سے کرتا ہے۔ ظاہری طور پر خدائی کا دعویٰ کرنے والا فرعون، باطن میں اپنی بے بسی اور مجبوری کا اقرار کر رہا ہے۔ وہ خدا سے شکوہ کناں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی کامیابی اور نورانیت بھی اُسی کی عطا کردہ ہے، اور خود فرعون کی گمراہی اور ذلت بھی اُسی کے فیصلے کا نتیجہ ہے۔
اس شعر میں دو کلیدی تصویریں ہیں: مہ رُو (چاند جیسا چہرہ) اور سیہ رُو (سیاہ چہرہ)۔ یہ صرف ظاہری حسن و قبح کی بات نہیں، بلکہ عزت و ذلت، ہدایت و گمراہی، اور قبولیت و نامنظوری کی علامتیں ہیں۔ فرعون کہہ رہا ہے کہ میری جان بھی چاند کی طرح روشن ہو سکتی تھی، لیکن آپ کے فیصلے نے اسے گہنا دیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے آپ کے فضل نے موسیٰ کو چمکتا چاند بنا دیا ہے۔
مولانا یہاں جبریہ عقیدے کا ایک انتہائی نازک پہلو بیان کر رہے ہیں، جہاں انسان اپنے اعمال کو مکمل طور پر مشیتِ الٰہی کے تابع محسوس کرتا ہے۔ فرعون کا یہ شکوہ دراصل اس کی اپنی بے بسی کا اعتراف ہے کہ خیر اور شر، دونوں کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔ وہ اپنی سرکشی کو اپنی فطرت نہیں بلکہ ایک ایسا کردار سمجھتا ہے جو اسے نبھانے کے لیے دیا گیا ہے۔
- مهرو
- چاند جیسا چہرہ، حسین، روشن چہرہ۔ یہاں عزت اور نورانیت کی علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
- سیهرو
- سیاہ چہرے والا، بدنام، ذلیل و خوار۔ یہاں گمراہی اور رسوائی کی علامت ہے۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.