Leer› Libro 2› El reproche de Dios a Moisés (la paz sea con él) por causa de aquel pastor› Verso 1760
M2:1760 — ناظرِ قلبیم اگر خاشِع بوَد / گرچه گفتِ لَفظ، ناخاضِع رُوَد
M2:1760
Significado · به زبانِ تو — Tu idioma · AI
خدا فرماتا ہے کہ ہم انسان کے دل کی حالت اور اس کی عاجزی و انکساری کو دیکھتے ہیں، چاہے اس کے ظاہری الفاظ بے ڈھنگے یا گستاخانہ ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ شعر اس حکایت کا حصہ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک چرواہے کو خدا سے بے تکلفی اور بظاہر گستاخانہ انداز میں باتیں کرنے پر ڈانٹتے ہیں۔ اس کے جواب میں خدا حضرت موسیٰ پر عتاب فرماتا ہے اور سمجھاتا ہے کہ عبادت اور محبت کا اصل معیار ظاہری الفاظ اور رسم و رواج نہیں، بلکہ دل کی سچی تڑپ اور خلوص ہے۔
مولانا رومی یہاں واضح کرتے ہیں کہ خدا انسانوں کے بنائے ہوئے آداب و القاب کا محتاج نہیں۔ وہ دل کا حال دیکھتا ہے، جو اصل جوہر ہے، جبکہ الفاظ محض ایک عرض (accidens) یعنی ظاہری اور ثانوی شے ہیں۔ اگر دل میں خشوع (عاجزی اور انکساری) موجود ہے تو الفاظ کی غلطی یا بے ادبی نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
یہ اصول تصوف کے مرکزی خیالات میں سے ہے: نیت اور باطنی کیفیت کو ظاہری عمل پر فوقیت حاصل ہے۔ چرواہے کی محبت سچی اور اس کا دل سوز سے بھرا ہوا تھا، اس لیے اس کے نامناسب الفاظ خدا کے نزدیک کسی بھی عالم کی فصیح و بلیغ عبادت سے زیادہ قیمتی تھے۔ اصل چیز وہ سوز ہے جو عشق سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ وہ الفاظ و عبارتیں جو اس سوز کو بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
- ناظرِ قلبیم
- ہم دل کو دیکھنے والے ہیں۔ یہاں خدا اپنی طرف سے کہہ رہا ہے۔
- خاشِع
- عاجزی کرنے والا، جھکنے والا، فروتنی کرنے والا۔
- گفتِ لَفظ
- لفظوں کا بیان، ظاہری بات چیت، کلام۔
- ناخاضِع
- جو خاضع نہ ہو؛ بے ادب، گستاخ، بے ڈھنگا۔
خداوند به نیت و حال درونی انسان توجه میکند، نه به ظاهر کلمات و آداب و رسوم؛ اگر دلی سرشار از عشق و خشوع باشد، بیان ناشیانه و حتی به ظاهر کفرآمیز آن پذیرفته است.
این بیت در ادامهٔ داستان موسی و شبان و در قالب وحی خداوند به موسی بیان میشود. موسی چوپانی را به خاطر دعاهای ساده و عاشقانهاش که به زبان بیادبی مینمود، سرزنش کرده بود و خداوند در اینجا موسی را عتاب میکند.
مولانا از زبان خداوند توضیح میدهد که معیار سنجش ما، «قلب» است، نه «قالب» گفتار. اگر قلب انسان در برابر حقیقت خاشع و تسلیم باشد، این اصالت دارد. حتی اگر کلماتی که بر زبان میآورد، از دیدگاه آدابدانان و اهل ظاهر، «ناخاضع» یا بیادبانه به نظر برسد. خداوند به سوز و گداز درون و صدق نیت بنده مینگرد، نه به فصاحت و بلاغت او.
این بیت، اصل بنیادین عرفان را بیان میکند: جوهر دین، حال درونی و عشق سوزان است، نه صرفاً رعایت ظواهر و الفاظ. همانطور که در بیت بعد میآید، دل «جوهر» و گفتار «عَرَض» است. خداوند خریدار آن گوهر اصیل است و به پوسته و ظاهر اعتنایی ندارد. دعای شبان، با همهٔ سادگی و بیادبی ظاهریاش، از صدها دعای عالمانه اما بیروح، نزد خداوند مقبولتر است.
- ناظرِ قلبیم
- نگاه ما به دل است، معیار ما باطن و نیت است
- خاشِع
- فروتن، تسلیم، خاکسار
- گفتِ لفظ
- بیان کلمات، ظاهر گفتار
- ناخاضِع
- غیرفروتن، بیادبانه، آنچه ظاهراً تسلیم و احترام را نمیرساند
- رَوَد
- جاری شود، بیان شود، پیش برود
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.