خواندن› دفتر ۱› بخش ۱۲۱ - در بیان آنک موسی و فرعون هر دو مسخر مشیتاند چنانک زهر و پازهر و ظلمات و نور و مناجات کردن فرعون بخلوت تا ناموس نشکند› بیت ۲۴۵۴
M1:2454 — موسی و فرعون معنی را رهی / ظاهر آن ره دارد و این بیرهی
M1:2454
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو موسیٰ اور فرعون دونوں ایک ہی مقصد (یعنی مشیتِ الٰہی) کے تابع ہیں۔ ظاہری طور پر ایک ہدایت کے راستے پر نظر آتا ہے اور دوسرا گمراہی پر۔
یہ شعر وحدت الوجود کے اس گہرے نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کائنات میں تمام تضادات، جیسے نیکی اور بدی، نور اور ظلمت، زہر اور تریاق، درحقیقت ایک ہی حقیقتِ عظمیٰ یعنی ارادۂ خداوندی کے مظاہر ہیں۔ مولانا رومی کے مطابق، موسیٰ علیہ السلام اور فرعون، دونوں باطنی سطح پر اللہ کی مرضی کو پورا کرنے والے کارندے ہیں۔
ظاہری دنیا میں، موسیٰ ہدایت، نور اور حق کی علامت ہیں، جبکہ فرعون گمراہی، تکبر اور باطل کا نمائندہ ہے۔ لیکن ایک اعلیٰ سطح پر، یہ دونوں کردار ایک بڑے الٰہی کھیل کا حصہ ہیں جس میں دونوں کا وجود ضروری ہے۔ جس طرح دن کی قدر رات سے پہچانی جاتی ہے اور صحت کی اہمیت بیماری سے واضح ہوتی ہے، اسی طرح موسیٰ کی پیغمبری کی شان فرعون کی سرکشی کے مقابلے میں ہی پوری طرح ظاہر ہوتی ہے۔
اس سے مراد یہ نہیں کہ فرعون کا عمل قابلِ تعریف ہے، بلکہ یہ کہ اس کا وجود بھی اللہ کی حکمت اور مشیت سے باہر نہیں۔ اس کے فوراً بعد آنے والے اشعار میں رومی فرعون کی رات کی تنہائی میں کی جانے والی مناجات کا ذکر کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون بھی اپنی سرکشی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور اپنی حالت پر مجبور تھا۔ اس طرح یہ شعر ہمیں ظاہری اعمال سے آگے بڑھ کر تقدیر کے اس وسیع نظام کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے جہاں ہر شے اپنے مقررہ کردار کو نبھا رہی ہے۔
- معنی
- باطنی حقیقت؛ اصل حقیقت؛ مراد ہے مشیتِ الٰہی یا اللہ کی ذات۔
- رهی
- غلام، بندہ، تابع۔ یہاں مراد ہے کہ دونوں ایک ہی حقیقت کے تابع ہیں۔
- بیرهی
- گمراہی، بے راہ روی، راستے سے بھٹکنا۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.