قرائت› دفتر ۱› بخش ۱۳۷ - حکایت ماجرای نحوی و کشتیبان› بیت ۲۸۴۵
M1:2845 — دلشکسته گشت کشتیبان ز تاب / لیک آن دم کرد خامش از جواب
M1:2845
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
کشتیبان از حرف تحقیرآمیز مرد نحوی آزردهخاطر و عصبانی شد، اما خویشتنداری کرد و تصمیم گرفت در آن لحظه چیزی نگوید.
این بیت، نقطۀ عطف داستان «نحوی و کشتیبان» است. مرد نحوی، که نماد عقل جزئی و دانش ظاهری است، با تکبر به کشتیبان میگوید چون «نحو» (دستور زبان) نمیداند، نیمی از عمرش تباه شده است. این حرف، توهینی آشکار به شخصیت و تمام زندگی کشتیبان است.
واکنش کشتیبان بسیار مهم است. مولانا میگوید او «دلشکسته» و «ز تاب» (خشمگین) شد، اما با این حال «خاموش» ماند. این سکوت، نشانۀ ضعف یا بیجوابی نیست، بلکه نشانۀ صبر و ظرفیت درونی اوست. او در مقابل تحقیری که از جنس دانش نظری و بیفایده است، واکنشی عجولانه نشان نمیدهد. این خویشتنداری، زمینه را برای درس بزرگتری که طبیعت به زودی به مرد نحوی خواهد داد، فراهم میکند. کشتیبان منتظر لحظۀ مناسب میماند تا حقیقت را نه با کلمات، بلکه با واقعیتِ مرگ و زندگی به او نشان دهد. این بیت، تقابل میان دانش انتزاعی و تجربۀ زیسته را برجسته میکند.
- ز تاب
- از شدت خشم و عصبانیت
- لیک
- ولی، اما
- آن دم
- در آن لحظه، همان موقع
- خامش
- ساکت، خاموش
نحوی کی مغرور اور توہین آمیز بات سے ملاح کا دل بہت دکھی ہوا، لیکن اس نے اُس وقت غصے یا دکھ کا اظہار کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی۔
یہ شعر ایک مشہور حکایت کا حصہ ہے جس میں ایک مغرور عالم (نحوی) اور ایک سادہ ملاح کے درمیان مکالمہ دکھایا گیا ہے۔ نحوی، جو اپنی علمی قابلیت پر نازاں ہے، ملاح سے پوچھتا ہے کہ کیا اس نے علمِ نحو (گرامر) پڑھا ہے۔ جب ملاح نفی میں جواب دیتا ہے، تو نحوی تکبر سے کہتا ہے کہ اس کی آدھی زندگی ضائع ہو گئی۔
اس شعر میں مولانا رومی ملاح کے ردِ عمل کو بیان کرتے ہیں۔ نحوی کی بات ایک تیر کی طرح اس کے دل پر لگتی ہے اور وہ ”دل شکستہ“ ہو جاتا ہے۔ یہ محض دکھ نہیں بلکہ توہین اور بے قدری کا احساس ہے۔ اس کے باوجود، ملاح فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیتا۔ اس کی خاموشی کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ ایک گہری حکمت کی نشانی ہے۔ وہ اس لمحے کو گزر جانے دیتا ہے، شاید یہ جانتے ہوئے کہ الفاظ سے بحث کرنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔
یہ خاموشی کہانی میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ ملاح کے کردار کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے — وہ سطحی علم کے مقابلے میں عملی حکمت اور صبر کا مالک ہے۔ آگے چل کر جب کشتی طوفان میں پھنس جاتی ہے تو یہی ملاح نحوی سے پوچھتا ہے کہ کیا اسے تیرنا آتا ہے، اور یوں علمِ ظاہر (نحو) کے مقابلے میں علمِ باطن یا عملی ہنر (محو) کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ملاح کی یہ وقتی خاموشی اس کے آنے والے طاقتور جواب کے لیے زمین تیار کرتی ہے۔
- تاب
- اس سیاق و سباق میں: تپش، سوزش، غصے کی گرمی، تکلیف۔
- دلشکسته
- جس کا دل ٹوٹ گیا ہو؛ غمگین، مایوس، رنجیدہ۔
- آن دم
- اُس لمحے، اُس وقت، فوراً۔
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.