قرائت› دفتر ۱› بخش ۱۳۷ - حکایت ماجرای نحوی و کشتیبان› بیت ۲۸۵۱
M1:2851 — چون بمردی تو ز اوصاف بشر / بحرِ اسرارت نهد بر فرق سر
M1:2851
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
جب تم اپنی انسانی صفات اور انا کو فنا کر دو گے، تو معرفت اور اسرارِ الٰہی کا سمندر تمہیں عزت اور قبولیت کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچا دے گا۔
یہ شعر نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے مرکزی نقطے کی وضاحت کرتا ہے۔ یہاں ”موت“ سے مراد جسمانی موت نہیں، بلکہ صوفیانہ اصطلاح میں ”موتِ اختیاری“ ہے، یعنی اپنی انا، نفسانی خواہشات، اور محدود بشری صفات (اوصافِ بشر) کو فنا کر دینا۔
مولانا رومی پچھلے شعر کی تمثیل کو آگے بڑھاتے ہیں کہ سمندر زندہ شخص کو ڈبو دیتا ہے لیکن لاش کو سطح پر اٹھا لیتا ہے۔ اسی طرح، جب تک انسان اپنی علمی قابلیت، ذات کے تکبر، اور ”میں“ کے احساس کے ساتھ زندہ رہتا ہے، وہ حقیقت کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنی ذات کو مٹا دیتا ہے (محو ہو جاتا ہے)، تو وہی سمندر اسے اپنے سر پر اٹھا لیتا ہے۔ یعنی، خود کو فنا کرنے سے ہی بقا اور حقیقی سربلندی حاصل ہوتی ہے۔
اس حکایت میں نحوی اپنی منطق اور علم پر نازاں تھا، لیکن جب زندگی کی اصل آزمائش (گرداب) آئی تو اس کا علم بےکار ثابت ہوا۔ بقا کے لیے علمِ ظاہر (نحو) نہیں، بلکہ خود کو سپرد کر دینے کا ہنر (محو) درکار تھا۔ لہٰذا، یہ شعر اس گہرے روحانی اصول کو بیان کرتا ہے کہ ذات کی نفی ہی اسرارِ الٰہی کے انکشاف کا راستہ ہے۔
- اوصافِ بشر
- انسان کی صفات؛ یہاں مراد محدود انسانی خصوصیات، نفسانی خواہشات، اور تکبر ہے۔
- بحرِ اسرار
- رازوں کا سمندر؛ مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کا علم، معرفتِ الٰہی۔
- بر فرقِ سر نہادن
- سر کے اوپر رکھنا؛ یعنی بہت زیادہ عزت دینا، بلند مرتبہ عطا کرنا۔
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.