قرائت› دفتر ۱› بخش ۱۳۷ - حکایت ماجرای نحوی و کشتیبان› بیت ۲۸۵۵
M1:2855 — فقهِ فقه و نَحوِ نحو و صَرفِ صرف / در کم آمد یابی ای یار شگرف
M1:2855
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
اے دوست، فقہ، نحو اور صرف جیسے ظاہری علوم اپنی انتہا پر پہنچ کر بھی اُس علمِ باطن کے مقابلے میں ہیچ اور کمتر ثابت ہوتے ہیں جس کی اب ضرورت ہے۔
یہ شعر نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے اختتامی حصے میں آیا ہے۔ کشتی طوفان میں گِھر چُکی ہے اور نحوی، جو اپنی عالمانہ قابلیت پر نازاں تھا، تیرنا نہیں جانتا۔ رومی کہتے ہیں کہ ہم نے یہ قصہ اس لیے بیان کیا تاکہ آپ کو ’نحوِ محو‘ یعنی فنا ہونے کا قاعدہ سکھائیں۔
اس تناظر میں، یہ شعر واضح کرتا ہے کہ ظاہری اور رسمی علوم — چاہے وہ دینی فقہ ہو، لسانی قواعد (نحو)، یا صرفِ الفاظ (صرف) ہوں — اپنی معراج پر پہنچ کر بھی زندگی اور موت کی حقیقی کشمکش میں ناکافی ہیں۔ جب بقا کا مسئلہ درپیش ہو، جب روح کو فنا کے سمندر سے گزرنا ہو، تو یہ تمام علمی موشگافیاں بے وقعت ہو جاتی ہیں۔ اصل علم وہ ہے جو انسان کو ’تیرنا‘ سکھائے، یعنی خود کو مٹا کر حقیقتِ کُل (اللہ) کے سپرد کر دینا۔
یہاں ’فقہ کی فقہ‘ یا ’نحو کی نحو‘ جیسے الفاظ کا استعمال ان علوم کی گہرائی اور مہارت کی طرف اشارہ ہے، لیکن رومی فوراً ہی انہیں ’در کم آمد‘ (کمتر پایا گیا) کہہ کر ان کی حدود واضح کر دیتے ہیں۔ اصل ضرورت ظاہری علم کے ذخیرے کی نہیں، بلکہ باطنی تجربے اور ’محویت‘ (effacement) کی کیفیت کی ہے۔
- یار شگرف
- عظیم دوست، قابلِ قدر ساتھی۔ یہاں مولانا اپنے قاری یا حسام الدین چلبی سے مخاطب ہیں۔
- در کم آمد یابی
- تُو کمتر پائے گا، ناقص پائے گا۔ یہ ایک محاوراتی اظہار ہے جس کا مطلب کسی چیز کا بے وقعت یا ناکافی ثابت ہونا ہے۔
- صرفِ صرف
- صرف کی بھی صرف، یعنی علمِ صرف (morphology) کی انتہا یا اس کا خالص ترین جوہر۔
- نحوِ نحو
- نحو کی بھی نحو، یعنی علمِ نحو (syntax/grammar) کی انتہا یا اس کا اصل اصول۔
- فقہِ فقہ
- فقہ کی بھی فقہ، یعنی علمِ فقہ (jurisprudence) کی گہرائی یا اس کا مغز۔
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.