قرائت› دفتر ۱› بخش ۱۳۷ - حکایت ماجرای نحوی و کشتیبان› بیت ۲۸۵۶
M1:2856 — آن سبوی آب، دانشهای ماست / وان خلیفه دجلهٔ علم خداست
M1:2856
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
ہمارے تمام حاصل کردہ علوم پانی کے ایک کوزے کی مانند ہیں، جبکہ خدا کا علم ایک عظیم دریا (دجلہ) کی طرح ہے۔
مولانا یہاں نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے باطنی معنی بیان کر رہے ہیں۔ نحوی، جو اپنے علمِ لغت پر نازاں تھا، اُس کا سارا علم ایک کوزے میں بھرے پانی کی طرح محدود اور تھوڑا ہے۔ یہ اُن تمام رسمی، عقلی اور دنیاوی علوم کی علامت ہے جو انسان اپنی محنت سے حاصل کرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں خدا کا علم، جسے یہاں بغداد کے دریا دجلہ سے تشبیہ دی گئی ہے، ایک لامحدود، زندہ اور فیض بخش حقیقت ہے۔ یہ وہ علمِ لَدُنّی یا معرفت ہے جو عقل سے نہیں بلکہ خود کو مٹانے (محو) اور عشق سے حاصل ہوتا ہے۔
اس تمثیل کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسان کا محدود علم اُسے روحانی گرداب سے نہیں بچا سکتا۔ نجات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کوزے کو خدا کے دریا میں غرق کر دے اور اپنی ذات کی نفی کر کے اُس لامحدود علم سے سیراب ہو۔ یہ بیت رسمی علم پر باطنی معرفت کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
- سبو
- کوزہ، صراحی، مٹی کا چھوٹا گھڑا۔
- خلیفه
- یہاں اس سے مراد بغداد کا خلیفہ ہے، جو دریائے دجلہ کے کنارے حکومت کرتا تھا اور اس دریا کا مالک سمجھا جاتا تھا۔
- دجله
- دریائے دجلہ، جو بغداد کے پاس سے گزرتا ہے۔ مولانا اسے اکثر علمِ الٰہی کی وسعت اور فراوانی کے لیے بطور استعارہ استعمال کرتے ہیں۔
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.