قرائت› دفتر ۲› بخش ۳۶ - عتاب کردن حق تعالی موسی را علیه السلام از بهر آن شبان› بیت ۱۷۵۸
M2:1758 — من نگردم پاک از تسبیحِشان / پاک هم ایشان شوند و دُرفِشان
M2:1758
شرح و معنا · به زبانِ تو — AI
خدا فرماتا ہے کہ مخلوق کی حمد و ثنا سے میری پاکیزگی میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ عبادت کرنے سے وہ خود ہی پاک صاف اور قیمتی ہو جاتے ہیں۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے مشہور قصے میں خدا کے کلام کا حصہ ہے۔ حضرت موسیٰ نے ایک چرواہے کو خدا سے بے تکلفی اور بظاہر غیر مہذب انداز میں باتیں کرتے ہوئے سنا تو اسے سخت ڈانٹا۔ اس پر خدا نے حضرت موسیٰ پر عتاب فرمایا اور سمجھایا کہ عبادت کا اصل مقصد ظاہری الفاظ اور آداب نہیں، بلکہ دل کی سچائی اور محبت ہے۔
اس شعر میں خدا اسی نکتے کی وضاحت کر رہا ہے کہ عبادت اور تسبیح کی ضرورت خدا کو نہیں، بندے کو ہے۔ خدا تو ہر تعریف اور پاکی کے تصور سے بھی پاک اور بلند ہے۔ جب بندے، جیسے کہ وہ سادہ دل چرواہا، اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں خدا کو یاد کرتے ہیں تو اس سے خدا کی شان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔
اس عمل کا فائدہ خود عبادت کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ ان کی تسبیح انہیں اندر سے پاک کرتی ہے، ان کے باطن کو صاف کرتی ہے، اور ان کے وجود کو موتی بکھیرنے والے (دُرفِشان) یعنی قیمتی اور روشن بنا دیتی ہے۔ مولانا رومی یہاں یہ واضح کر رہے ہیں کہ عبادت کا مقصد خود کو سنوارنا اور روحانی طور پر ترقی کرنا ہے، نہ کہ خدا کی کسی ضرورت کو پورا کرنا۔
- دُرفِشان
- موتی بکھیرنے والا، قیمتی بنانے والا۔ یہاں مراد ہے کہ عبادت سے انسان کا باطن قیمتی اور منور ہو جاتا ہے۔
- تسبیحِشان
- اُن کی تسبیح، اُن کی پاکی بیان کرنا۔ یہاں 'شان' (اُن) سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو اپنی سادہ زبان اور مخصوص انداز میں خدا کو یاد کرتے ہیں، جیسے وہ چرواہا۔
خداوند به ستایش بندگان نیازی ندارد؛ این عبادت و ستایش است که خودِ انسان را پاکیزه و متعالی میسازد و جوهر وجودیاش را شکوفا میکند.
این بیت در ادامهٔ پاسخ خداوند به موسی (ع) است که چوپانی را به خاطر نیایش ساده و عاشقانهاش سرزنش کرده بود. خداوند به موسی یادآوری میکند که ذات او بینیاز مطلق است و با تسبیح و ستایش آفریدگان، چیزی به کمال او افزوده نمیشود. در واقع، این عبادت و نیایش، هرچند در ظاهر ساده و حتی خطاآمیز باشد، وسیلهای برای رشد و پالایش خودِ بنده است.
تعبیر «دُرفشان» (گوهرافشان) تصویری زیبا از این تحول درونی است. وقتی انسان با صداقت و از صمیم قلب به ستایش معبود میپردازد، دهان و جانش کلماتی ارزشمند همچون مروارید میپراکند. این عمل، روح او را صیقل میدهد و او را پاک و ارزشمند میسازد. بنابراین، هدف از عبادت، سود رساندن به خدا نیست، بلکه بخشایشی (جودی) از سوی خداست تا بندگان از طریق آن به کمال برسند.
- تسبیح
- پاک و منزه دانستن خدا، ستایش، نیایش
- دُرفِشان
- گوهرافشان، کسی که مروارید میپراکند، کنایه از سخنان ارزشمند و گرانبها گفتن
گفتگو — دربارهٔ این بیت بپرس — پاسخ از دل مثنوی، با ارجاع به ابیات
گفتگوی تو تا وقتی عمومیاش نکنی، فقط روی همین دستگاه میماند.
پرسشهای خوانندگان0
هنوز پرسشی بهاشتراک گذاشته نشده — اولین نفر باش.