Lire› Livre 1› L'histoire du grammairien et du batelier› Verset 2852
M1:2852 — ای که خلقان را تو خر میخواندهای / این زمان چون خر برین یخ ماندهای
M1:2852
Sens · به زبانِ تو — Votre langue · AI
ای دانشمند مغرور که مردم را به چشم حقارت میدیدی و نادان میخواندی، اکنون در این مهلکهٔ مرگ، خودت عاجز و درمانده شدهای.
این بیت در ادامهٔ داستان مرد نحوی و کشتیبان، نتیجهٔ اخلاقی غرور علمی را بیان میکند. مولانا روی سخن را از نحوی به تمام کسانی برمیگرداند که به دانش ظاهری خود مغرورند و دیگران را «خر» یا نادان میپندارند.
در این داستان، دانش نحوی در برابر عظمت و خطر دریا هیچ کاربردی ندارد. وقتی کشتی در آستانهٔ غرق شدن است، این دانش نه تنها راهگشا نیست، بلکه صاحب خود را آسیبپذیرتر میکند. مولانا با استفاده از ضربالمثل «خر در گِل ماندن» (که اینجا به شکل «خر بر یخ ماندن» آمده)، وضعیت ناگوار و درماندگی کامل نحوی را به تصویر میکشد. او که دیگران را حیوان میپنداشت، اکنون خود در وضعیتی حیوانی و عاجزانه گرفتار شده است.
پیام اصلی این است که دانش حقیقی، دانشی است که در لحظات بحرانی و در برابر حقایق بزرگ هستی مانند مرگ و فنا به کار آید. دانشی که تنها به کار جدل و تحقیر دیگران بیاید، در نهایت صاحب خود را در مهلکهٔ حوادث، تنها و بیدفاع رها میکند. این بیت هشداری است به سالک که غرور به دانستههای ظاهری، بزرگترین مانع در راه «محو» شدن و رسیدن به معرفت حقیقی است.
- خلقان
- مردم، خلقها (جمعِ «خلق»)
- خر خواندن
- نادان و ابله شمردن، تحقیر کردن
- چون خر برین یخ ماندهای
- کنایه از به شدت درمانده و عاجز شدن، گیر افتادن در وضعیتی بینهایت دشوار و بیراه حل
اے وہ شخص جو اپنے علم کے گھمنڈ میں دوسروں کو حقیر سمجھتا تھا، دیکھ اب تُو خود کیسی بے بسی اور لاچاری کی حالت میں گرفتار ہے۔
یہ شعر نحوی (گرامر کے عالم) اور کشتی بان کی حکایت کے اختتام پر آیا ہے۔ نحوی نے کشتی بان کو اُس کی علمی کم مائیگی پر طعنہ دیا تھا، لیکن جب کشتی طوفان میں پھنس گئی تو اُس کا سارا علم بے کار ثابت ہوا۔ مولانا رومی اُس نحوی سے مخاطب ہیں، اور اُس کے ذریعے ہر اُس شخص سے جو محض ظاہری اور کتابی علم پر غرور کرتا ہے۔
یہاں "گدھے کا برف میں پھنس جانا" (خر بر یخ ماندن) ایک فارسی محاورہ ہے، جس کا مطلب ہے کسی ایسی مشکل میں بے بس ہو کر رہ جانا جہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہ سوجھے۔ مولانا فرما رہے ہیں کہ جس طرح تم دوسروں کو حقارت سے "گدھا" کہتے تھے، آج تم خود اُسی جانور کی طرح ایک ایسی آفت میں پھنس گئے ہو جہاں تمہارا سارا علم و فضل بے معنی ہو چکا ہے۔
صوفیانہ نقطۂ نظر سے یہ شعر عقلی اور رسمی علم پر روحانی تجربے اور خود سپردگی (محو) کی فوقیت کو واضح کرتا ہے۔ زندگی کے حقیقی طوفانوں میں صرف وہی علم کام آتا ہے جو انسان کو فنا فی اللہ کے سمندر میں تیرنا سکھائے، نہ کہ وہ جو صرف الفاظ اور قواعد کے ساحل پر کھڑا رہنا سکھاتا ہے۔
- خلقان
- مخلوق، لوگ۔ 'خلق' کی جمع۔
- خر برین یخ ماندهای
- تُو اِس برف پر گدھے کی طرح پھنس گیا ہے۔ یہ ایک فارسی محاورہ ہے جو شدید بے بسی اور لاچاری کی حالت میں گرفتار ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.