Lire› Livre 1› L'histoire du grammairien et du batelier› Verset 2857
M1:2857 — ما سبوها پر به دجله میبریم / گرنه خر دانیم خود را، ما خریم
M1:2857
Sens · به زبانِ تو — Votre langue · AI
دانش ناچیز ما در برابر علم بیکران الهی مانند کوزهای آب در کنار رودی خروشان است و اگر به این ناچیزی خود آگاه نباشیم، نادان واقعی ما هستیم.
مولانا در این بیت، تمثیل کوزه و رود دجله را که در بیت قبل معرفی کرده بود، به اوج میرساند. او میگوید ما انسانها با دانش محدود و اکتسابی خود (کوزههای آب) به پیشگاه علم بینهایت خداوند (رود دجله) میرویم. این کار، یعنی بردن آب به کنار رودی عظیم، ذاتاً کاری بیهوده و ابلهانه است.
نکتهٔ اصلی اینجاست: اگر ما در حین این کار، به بیهودگی و حقارت عمل خود آگاه باشیم و خود را در برابر عظمت آن اقیانوس علم، «خر» (نماد نادانی و غفلت) بدانیم، این خود نشانهای از دانایی است. اما اگر از این حقیقت غافل باشیم و گمان کنیم که با کوزهٔ کوچک خود چیزی به آن دریا اضافه میکنیم، آنگاه واقعاً «خریم» (نادان و احمق هستیم).
این بیت تواضع معرفتی را آموزش میدهد. سالک باید همواره دانش خود را در برابر معرفت الهی هیچ بداند. همانطور که نحوی در داستان، به علم دستور زبان خود مغرور بود و از «محو» شدن در دریای حقیقت غافل ماند، هر کسی که به دانستههای خود بنازد، از درک حقیقت بزرگتر محروم میماند. اعتراف به جهل، اولین قدم در مسیر معرفت حقیقی است.
- سبو
- کوزه، ظرف سفالی برای حمل آب
- دجله
- رود بزرگ و پرآب دجله، نماد علم بیکران الهی
- گرنه
- اگر نه، چنانچه
- خر
- در اینجا به معنای نادان، جاهل، غافل
- خریم
- خر هستیم، نادان و احمقیم
ہم اپنا محدود علم خدا کے لامحدود علم کے سامنے پیش کرتے ہیں؛ اگر ہم ایسا کرتے ہوئے اپنی حیثیت کو حماقت نہ سمجھیں، تو ہم واقعی احمق ہیں۔
یہ شعر نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے اختتام پر آیا ہے، جہاں مولانا رومی ظاہری علم (نحو) پر باطنی اور حقیقی معرفت (محو) کی فوقیت بیان کر رہے ہیں۔
اس سے پچھلے شعر میں، مولانا نے انسانی علم کو ایک صراحی (سبو) سے اور خدائی علم کو دریائے دجلہ سے تشبیہ دی ہے۔ اس تناظر میں، یہ شعر کہتا ہے کہ ہم انسان اپنی چھوٹی چھوٹی علمی صراحیاں بھر کر خدا کے علم کے دریا کے پاس لے جاتے ہیں۔ یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے کوئی دریا کے کنارے پانی بیچنے کی کوشش کرے۔
مولانا کہتے ہیں کہ اگر ہم اس عمل کو حماقت نہ سمجھیں اور اپنی علمی قابلیت پر غرور کریں، تو ہم درحقیقت گدھے (خر) ہیں۔ یہاں 'خر' کا لفظی ترجمہ 'گدھا' ہے، لیکن اس سے مراد جہالت اور بے عقلی ہے۔ اس شعر کا اصل نکتہ فکری عاجزی اور اپنے علم کی محدودیت کا اعتراف ہے۔ حقیقی عالم وہ ہے جو خدا کے لامحدود علم کے سامنے اپنی کم مائیگی کو تسلیم کرتا ہے۔
- سبوها
- صراحیاں، پانی کے چھوٹے برتن (سبو کی جمع)؛ یہاں مراد انسانی، محدود علم ہے۔
- دجله
- دریائے دجلہ؛ یہاں مراد خدا کا لامحدود اور بے پایاں علم ہے۔
- خر
- گدھا؛ یہاں جہالت، حماقت اور بے عقلی کی علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.