Leggi› Libro 1› La storia del grammatico e del marinaio› Distico 2847
M1:2847 — هیچ دانی آشنا کردن بگو / گفت نی ای خوشجواب خوبرو
M1:2847
Significato · به زبانِ تو — La tua lingua · AI
در لحظهی خطر، کشتیبان از مرد دانشمند میپرسد که آیا مهارت حیاتی شنا کردن را بلد است یا نه، و او با احترام پاسخ منفی میدهد.
این بیت نقطهی اوج داستان مرد نحوی (دانشمند دستور زبان) و کشتیبان است. در ابتدای داستان، نحوی با تکبر از کشتیبان پرسیده بود که آیا «علم نحو» میداند و وقتی پاسخ منفی شنید، نیمی از عمر او را تباهشده خواند. اکنون که کشتی در گرداب مرگ گرفتار شده، جایگاهها عوض میشود. کشتیبان با پرسشی ساده و حیاتی، دانش واقعی و کاربردی را در برابر دانش نظری و انتزاعی قرار میدهد.
پرسش «هیچ دانی آشنا کردن؟» (آیا شنا بلدی؟) نشان میدهد که در بحرانهای وجودی، مهارتهای عملی برای بقا بر دانش تئوریک برتری دارند. پاسخ مؤدبانهی نحوی («ای خوشجواب خوبرو») طعنهآمیز است؛ او که تا لحظاتی پیش مغرور بود، اکنون در موضع ضعف، زبان به تحسین رقیب خود میگشاید. این بیت، مقدمهای است برای نتیجهگیری عرفانی داستان: در دریای هستی، آنچه سالک را نجات میدهد، نه دانش ظاهری (نحو)، بلکه توانایی «محو» شدن و تسلیم شدن در برابر حقیقت (شناوری) است.
- آشنا کردن
- شنا کردن
- نی
- نه
- خوشجواب
- کسی که پاسخ نیکو و دلنشین میدهد
- خوبرو
- زیبارو، خوشچهره
کشتیبان نے نحوی سے پوچھا، 'کیا تم تیرنا جانتے ہو؟' نحوی نے جواب دیا، 'نہیں، اے حسین اور خوش گفتار شخص۔'
اس شعر میں کہانی کا رخ یکسر پلٹ جاتا ہے۔ اب تک نحوی، جو اپنے علمِ صرف و نحو پر نازاں تھا، ملاح کو کم علم ہونے کا طعنہ دے رہا تھا۔ لیکن جب کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے اور جان پر بن آتی ہے تو ملاح ایک سادہ مگر فیصلہ کن سوال پوچھتا ہے۔ یہ سوال زندگی اور موت کا سوال ہے: کیا تم تیرنا جانتے ہو؟
یہاں 'تیرنا' (آشنا کردن) محض ایک جسمانی ہنر نہیں، بلکہ ایک گہری روحانی علامت ہے۔ یہ دنیاوی علم کے مقابلے میں عملی حکمت، معرفت اور خود کو فنا کر کے حقیقت کے سمندر میں غوطہ لگانے کی صلاحیت کی طرف اشارہ ہے۔ مولانا رومی یہ دکھا رہے ہیں کہ جب وجود کا بحران سر پر آتا ہے تو کتابی علم اور منطقی بحثیں بے کار ہو جاتی ہیں۔ اُس وقت صرف وہی علم کام آتا ہے جو انسان کو ہلاکت خیز موجوں سے بچا سکے۔
نحوی کا جواب 'نہیں' اس کی مکمل بے بسی کا اعتراف ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ جواب دیتے ہوئے بھی ملاح کو 'خوش جواب' اور 'خوب رو' کہہ کر مخاطب کرتا ہے، جو اس کی عادت اور تکلّفات میں پھنسے ہونے کی نشانی ہے۔ لیکن اب یہ القابات کھوکھلے ہیں کیونکہ اصل امتحان میں اس کا سارا علم دھرے کا دھرا رہ گیا ہے۔ یہ لمحہ اس کہانی کا مرکزی نکتہ ہے، جہاں ظاہری علم کی شکست اور باطنی حکمت کی فتح کا آغاز ہوتا ہے۔
- آشنا کردن
- تیرنا، شناوری کرنا۔ یہ ایک قدیم اور شاعرانہ اصطلاح ہے جو 'شنا کردن' کے معنی میں استعمال ہوتی ہے۔
- خوشجواب
- اچھا جواب دینے والا، خوش گفتار۔ یہاں نحوی طنزاً نہیں بلکہ اپنی عادت کے مطابق تعظیماً کہہ رہا ہے۔
- خوبرو
- خوبصورت چہرے والا، حسین۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.