Leggi› Libro 1› La storia del grammatico e del marinaio› Distico 2860
M1:2860 — بلک از دجله چو واقف آمدی / آن سبو را بر سر سنگی زدی
M1:2860
Significato · به زبانِ تو — La tua lingua · AI
اگر اُس شخص کو بھی خدا کے لامحدود علم کا ادراک ہو جاتا، تو وہ اپنے محدود اور جزوی علم کو حقارت سے ترک کر دیتا۔
یہ شعر نحوی اور کشتی بان کی حکایت کے اختتام پر مولانا کی تشریح کا حصہ ہے۔ یہاں تمثیل یہ ہے کہ انسان کا محدود علم ایک چھوٹے سے پانی کے مشکیزے (سبو) کی طرح ہے، جبکہ خدا کا علم دجلہ جیسے عظیم دریا کی مانند ہے۔
مولانا کہتے ہیں کہ جو شخص خدا کے علم کے سمندر سے ناواقف ہے، وہ اپنے چھوٹے سے مشکیزے پر فخر کرتا ہے اور اسے ہر جگہ لیے پھرتا ہے۔ لیکن جس لمحے اسے اُس عظیم دریا کا عرفان حاصل ہو جائے، اسے اپنا علم نہ صرف حقیر اور ناکافی محسوس ہوگا، بلکہ وہ اسے ایک رکاوٹ سمجھے گا۔
چنانچہ، وہ محض مشکیزے کو ایک طرف نہیں رکھے گا، بلکہ شدتِ احساس سے اسے پتھر پر پٹخ کر توڑ دے گا۔ یہ عمل جزوی علم سے مکمل بیزاری اور کلی علم (علمِ الٰہی) کے سامنے اپنے آپ کو فنا (محو) کر دینے کی علامت ہے۔ یہ محض علم کو ترک کرنا نہیں، بلکہ اُس پر قائم تکبر اور ذات کے احساس کو مٹانا ہے۔
- دجله
- دریائے دجلہ۔ یہاں یہ خدا کے لامحدود علم کی تمثیل ہے۔
- واقف آمدی
- واقف ہو جاتا، آگاہ ہو جاتا۔
- سبو
- پانی کا چھوٹا مٹکا یا مشکیزہ۔ یہاں یہ انسان کے محدود، رسمی علم کی علامت ہے۔
- بر سر سنگی زدی
- کسی پتھر کے سر پر مار دیتا، یعنی پٹخ کر توڑ دیتا۔
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.