Leggi› Libro 2› Dio (l'Altissimo) rimprovera Mosè (su di lui la pace) per via del pastore› Distico 1750
M2:1750 — وحی آمد سوی موسی از خدا / بندهٔ ما را ز ما کردی جدا
M2:1750
Significato · به زبانِ تو — La tua lingua · AI
اس شعر میں خدا حضرت موسیٰؑ کو سرزنش کر رہا ہے کہ اُن کے ظاہری اصولوں پر سختی کرنے کی وجہ سے ایک مخلص بندہ خدا سے دور ہو گیا ہے۔
یہ شعر مثنوی کی مشہور کہانی، ’’موسیٰ اور چرواہا‘‘، کے نقطۂ عروج پر آتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے ایک چرواہے کو نہایت سادہ اور بے تکلفانہ انداز میں خدا سے باتیں کرتے ہوئے سنا، جس میں وہ خدا کی ظاہری خدمت کرنے کی آرزو کر رہا تھا۔ موسیٰؑ نے شریعت کے ظاہری پہلو سے اسے توہینِ رسالت قرار دیا اور چرواہے کو سخت ڈانٹا۔ چرواہا، یہ سمجھ کر کہ اس کی محبت اور عبادت کو رد کر دیا گیا ہے، مایوس ہو کر جنگل کی طرف بھاگ گیا۔
اِسی لمحے خدا کی طرف سے موسیٰؑ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ یہ شعر اُس وحی کا پہلا جملہ ہے، جو ایک شدید سرزنش ہے۔ خدا موسیٰؑ کو بتا رہا ہے کہ اُن کا کام لوگوں کو جوڑنا تھا (وصل کردن)، توڑنا نہیں (فصل کردن)۔ رومی یہاں یہ نکتہ بیان کر رہے ہیں کہ عبادت کی روح نیت اور اخلاص میں ہے، نہ کہ صرف ظاہری الفاظ اور رسوم میں۔ خدا ہر شخص کے باطن اور اس کی محبت کی زبان کو سمجھتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی نامکمل کیوں نہ ہو۔ موسیٰؑ نے اپنی فہم کو معیار بنا کر ایک سچے عاشق کو خدا سے جدا کر دیا، جو خدا کی نظر میں ایک بہت بڑی غلطی تھی۔
- وحی
- خدا کا پیغام جو نبی پر نازل ہو۔
- سوی
- کی طرف، کی جانب۔
- ز ما
- ہم سے (فارسی میں 'از ما' کی شاعرانہ شکل)۔
خداوند موسی را سرزنش میکند که چرا با تندی و خردهگیری، بندهی سادهدل او (چوپان) را از راه و روش عاشقانهاش در پرستش، مأیوس و جدا کرده است.
این بیت آغاز عتاب و سرزنش خداوند به موسی است. موسی (ع) که نماد عقل، شریعت و ظاهر دین است، چوپانی را به خاطر دعاهای ساده و انسانوارش توبیخ کرده بود. او از چوپان خواسته بود که خدا را به شیوهای «صحیح» و «عالمانه» ستایش کند. اما خداوند در اینجا به موسی وحی میکند که این کار او اشتباه بوده است.
نکتهی اصلی این است که موسی با این کار، «فصل» و جدایی ایجاد کرده، در حالی که وظیفهی پیامبران «وصل» کردن و نزدیک ساختن بندگان به خداست. خداوند به موسی میفهماند که راه رسیدن به او یکی نیست و هر کس از مسیری و با زبانی خاص با معشوق خود سخن میگوید. مهم، سوز و صداقت درون است، نه صرفاً آداب و صورت بیرونی عبادت.
مولانا در این داستان، تقابل میان عشق (نمایندهاش چوپان) و عقل جزئی یا شریعتمداری خشک (نمایندهاش موسی) را به تصویر میکشد. خداوند جانب عشق را میگیرد و به موسی یادآوری میکند که او از ظاهر و الفاظ فراتر است و به قلبهای سوزان بندگانش نظر دارد، حتی اگر بیانشان خام و سادهلوحانه باشد. این سرزنش، در واقع درسی بزرگ به همهی کسانی است که دیگران را بر اساس ظاهر و آداب پرستششان قضاوت میکنند.
- وحی
- پیام خداوند به پیامبران، الهام الهی
- سوی
- به طرف، به جانب
- بندهٔ ما را
- بندهی ما را، خدمتگزار ما را (در اینجا منظور همان چوپان است)
- ز ما
- از ما
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.