Leggi› Libro 3› Bahlul interroga il derviscio› Distico 1892
M3:1892 — این و صد چندینی ای صادق ولیک / شرح کن این را بیان کن نیک نیک
M3:1892
Significato · به زبانِ تو — La tua lingua · AI
بہلول درویش سے کہتے ہیں کہ تمہاری یہ بات اور اس سے بھی کئی گنا زیادہ سچ ہے، لیکن اسے اس طرح واضح کرو کہ ہر کوئی سمجھ سکے۔
یہ بیت بہلول (رضی اللہ عنہ) کے اس سوال کے جواب میں ہے جو انہوں نے ایک درویش سے پوچھا تھا کہ 'تم کیسے ہو؟' درویش نے جواباً اپنی کیفیت بیان کی کہ وہ شخص کیسا ہو سکتا ہے جس کی مراد کے مطابق دنیا کے تمام کام چل رہے ہوں۔ اس نے کائنات کے ہر ذرے پر اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور اختیار کو بیان کیا، یہاں تک کہ کوئی دانت بھی اس فرمانروا کی رضا اور حکم کے بغیر نہیں ہنستا۔
اس پر بہلول (رضی اللہ عنہ) درویش کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'تم نے سچ کہا، اور تمہارے چہرے سے یہ سچائی ظاہر بھی ہے۔' پھر وہ درویش سے یہ بیت کہتے ہیں کہ تمہاری یہ بات اور اس سے سو گنا زیادہ سچ ہے، لیکن اسے اس طرح بیان کرو کہ نہ صرف اہل علم بلکہ عام لوگ بھی اسے سمجھ سکیں۔ بہلول (رضی اللہ عنہ) یہاں ناطق کامل (کامل متکلم) کی مثال اس دسترخوان بچھانے والے سے دیتے ہیں جو ہر قسم کا کھانا تیار کرتا ہے تاکہ کوئی مہمان بھوکا نہ رہے، اور ہر ایک کو اس کی پسند کا کھانا ملے۔ بالکل اسی طرح جیسے قرآن مجید کے سات معانی ہیں جو خاص اور عام دونوں کے لیے خوراک کا سامان ہیں۔
اس بیت میں رومی (رح) ایک اہم تعلیمی اصول بیان کر رہے ہیں: سچائی کو اس طرح پیش کرنا چاہیے کہ وہ ہر سطح کے ذہن کے لیے قابل فہم ہو۔ یہ صرف حقائق کا بیان نہیں بلکہ ان کی ایسی وضاحت ہے جو سامعین کی ذہنی سطح کے مطابق ہو اور انہیں قبول کرنے پر آمادہ کرے۔
- صادق
- سچا، راست گو
- شرح کن
- شرح کرو، وضاحت کرو
- بیان کن
- بیان کرو، واضح کرو
- نیک نیک
- خوب اچھی طرح، بہت عمدگی سے
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.