읽기› 권 3› 손님이 그들에게 대답하고 비유를 들어 수호자가 북소리로 밭에서 낙타를 쫓아내는 것을 비유하다. 그 낙타의 등에는 마흐무드의 큰 북이 매달려 있었다› 대구 4127
M3:4127 — پا نهم گستاخ چون خانه روم / پا نلرزانم نه کورانه روم
M3:4127
의미 · به زبانِ تو — 당신의 언어 · AI
میں بے دھڑک قدم رکھتا ہوں جیسے اپنے گھر جا رہا ہوں، میرے قدم نہیں لرزتے اور نہ ہی میں اندھوں کی طرح چلتا ہوں۔
یہ شعر ایک ایسے شخص کی کیفیت بیان کرتا ہے جو حقائق سے پوری طرح آگاہ ہو اور اس کے دل میں کوئی شک یا خوف نہ ہو۔ یہ دراصل ایک مہمان کا قول ہے جو اپنے میزبانوں کے سوال کا جواب دے رہا ہے کہ وہ کس طرح اس قدر بے باکی سے بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب انسان کو کسی چیز کا مکمل یقین ہو جائے، تو وہ اس طرح چلتا ہے جیسے اپنے ہی گھر میں داخل ہو رہا ہو—بے خوف، پراعتماد اور پوری بصیرت کے ساتھ۔ اس کے قدموں میں کوئی لرزش نہیں ہوتی اور وہ اندھوں کی طرح ٹٹولتا نہیں پھرتا۔
اس سے پہلے کے اشعار میں علم الیقین (علم سے حاصل ہونے والا یقین) اور عین الیقین (دیکھنے سے حاصل ہونے والا یقین) کا ذکر ہے، اور یہ شعر اسی تسلسل میں آتا ہے۔ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کا 'ذائقہ' چکھنے کو مل جائے، اور اس کی آنکھیں حقیقت کے نور سے روشن ہو جائیں، تو اس کے لیے دنیا کے تمام خوف اور شبہات ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ اس طرح حق کی راہ پر چلتا ہے جیسے اسے اپنی منزل کا ہر زاویہ معلوم ہو۔ یہ کیفیت اس شخص کی ہے جس نے عشقِ الٰہی کی مٹھاس چکھ لی ہو اور اس کے دل و دماغ روشن ہو گئے ہوں۔
- گستاخ
- بے باک، بے دھڑک، نڈر
- کورانہ
- اندھوں کی طرح، بغیر بصیرت کے
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.