لوستل› دفتر ۱› د رجعنا من الجهاد الاصغر الی الجهاد الاکبر تفسیر› بيت ۱۳۸۱
M1:1381 — دوزخست این نَفس و دوزخ اژدهاست / کو به دریاها نگردد کم و کاست
M1:1381
مانا · به زبانِ تو — ستاسو ژبه · AI
یہ بیت انسانی نفس (نفسِ امّارہ) کو دوزخ سے تشبیہ دیتا ہے، جو ایک ایسے بھوکے اژدہے کی مانند ہے جس کی پیاس اور بھوک سمندروں کے پانی سے بھی نہیں بجھتی۔
مولانا رومی یہاں حدیثِ نبوی ﷺ ”ہم جہادِ اصغر (چھوٹے جہاد) سے جہادِ اکبر (بڑے جہاد) کی طرف لوٹ آئے ہیں“ کی تشریح کر رہے ہیں۔ بیرونی دشمن سے لڑنا جہادِ اصغر ہے، لیکن اپنے نفس سے لڑنا جہادِ اکبر ہے۔
اس شعر میں نفس کو براہِ راست دوزخ قرار دیا گیا ہے۔ یہ محض ایک تشبیہ نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت کا بیان ہے کہ نفس کی فطرت بھی دوزخ جیسی ہے۔ جس طرح دوزخ، جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے (هَلْ مِنْ مَزید)، کبھی نہیں بھرتی اور ہمیشہ مزید طلب کرتی ہے، اسی طرح انسان کا نفس بھی خواہشات، حرص اور غضب سے کبھی سیر نہیں ہوتا۔
مولانا نفس کو ایک ایسے افسانوی اژدہے سے تشبیہ دیتے ہیں جو ساتوں سمندر بھی پی جائے تو اس کی پیاس اور آگ میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ یہ تصویر نفس کی لامتناہی اور تباہ کن بھوک کو واضح کرتی ہے۔ جب تک اس نفسانی اژدہے کو قابو نہ کیا جائے، روحانی سکون اور معرفت ناممکن ہے۔ اگلے اشعار میں مولانا بتاتے ہیں کہ جس طرح دوزخ کو اللہ کا قدم ہی پُر اور ساکن کرے گا، اسی طرح نفس کو بھی صرف اللہ کی مدد اور اس کے نور سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔
- نَفس
- انسان کی ذات کا وہ حصہ جو سفلی خواہشات، غصے اور حیوانی جبلتوں کا مرکز ہے۔ صوفیانہ اصطلاح میں اسے 'نفسِ امّارہ' بھی کہتے ہیں جسے قابو کرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔
- اژدها
- ایک بہت بڑا سانپ یا ڈریگن؛ یہاں لامتناہی بھوک اور تباہ کن طاقت کی علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
- کم و کاست
- کمی بیشی، گھٹنا یا کم ہونا۔ یہاں مراد ہے کہ اس کی بھوک اور پیاس میں کوئی کمی نہیں آتی۔
在此上下文中,鲁米说:人的「自我」(或称「本我」,波斯语为nafs)就像地狱,而地狱则是一头贪得无厌的巨龙,其欲火连海洋也无法浇灭。
这句诗出自鲁米对著名圣训「我们已从一场较小的圣战(al-jihād al-asghar)归来,现在要面对一场更大的圣战(al-jihād al-akbar)」的阐释。较小的圣战指对外作战,而更大的圣战则是指与内在敌人——「自我」(nafs)——的斗争。
鲁米将这个「自我」直接等同于地狱(dūzakh),并将其描绘成一头巨龙(azhdahā)。这个意象的核心在于其「永不满足」的特性。正如紧随其后的诗句所言,这头巨龙能饮尽七海之水,吞噬无数罪人与顽石,却依然烈焰熊熊,高喊着《古兰经》中地狱之言:「还有吗?」(hal min mazīd)。
因此,这句诗的重点并非抽象的善恶之辨,而是对「自我」欲望的本质进行诊断:它是一个无底洞,任何世俗的满足(象征着「海洋」)都无法填补它、削弱它。鲁米借此强调,征服内在的欲望远比战胜外在的敌人更为艰巨,因为它是一个无限的挑战。
- نَفس
- (Nafs)一个源自阿拉伯语的核心苏非术语,意指人的「自我」、「本我」或「灵魂的低级欲望」。它被视为灵性道路上需要被驯服和净化的主要内在障碍。
- دوزخ
- (Dūzakh)地狱。在此处,它不仅是一个死后的惩罚之地,更是一个象征,代表「自我」永不满足的、毁灭性的欲望之火。
- اژدها
- (Azhdahā)龙或巨蟒。在波斯文学和神话中,它常常是贪婪、力量和难以战胜的邪恶的象征。
- کم و کاست
- (Kam u kāst)减少与减损。这是一个古雅的固定词组,强调欲望的火焰丝毫不会因外界的浇灌而有所减弱。
نفس اماره یا همان خودِ حیوانی انسان، مانند جهنم و اژدهایی سیریناپذیر است که عطش و حرص آن با تمام نعمتهای دنیا نیز فرونمینشیند.
این بیت در چارچوب حدیث معروف «بازگشت از جهاد اصغر به جهاد اکبر» قرار دارد. مولانا پس از بیان اینکه مبارزه با دشمن درونی (نفس) بسیار دشوارتر از جنگ با دشمن بیرونی است، به توصیف ماهیت این دشمن میپردازد.
او «نفس» را به دو چیز تشبیه میکند: یکی «دوزخ» و دیگری «اژدها». این نفس، همچون جهنم، طبیعتی آتشین، ویرانگر و بلعنده دارد. سپس این جهنم را به اژدهایی تشبیه میکند که ویژگی اصلیاش، سیریناپذیری مطلق است. این اژدها آنقدر عظیم و سوزان است که حتی اگر تمام آبهای دریاها را بر آن بریزند، نه آتشش خاموش میشود و نه از حجمش چیزی کم میشود. این تصویر، حرص و آز بینهایت نفس را نشان میدهد که هرچه بیشتر به دست میآورد، حریصتر و مطالبهگرتر میشود.
مولانا در ابیات بعدی این تصویر را بسط میدهد و توضیح میدهد که این نفس (که جزئی از جهنم کل است) تنها با یک چیز آرام میگیرد: وقتی که خداوند با جلال و قدرت مطلق خود بر آن قدم بگذارد و آن را مهار کند. بنابراین، پیروزی در «جهاد اکبر» کار انسان بهتنهایی نیست و نیازمند یاری و تجلی خداوند است.
- نَفس
- در اینجا: خودِ حیوانی و سرکش انسان، نفس اماره، منِ پایین
- دوزخ
- جهنم
- اژدها
- ماری بسیار بزرگ و افسانهای، نماد ویرانگری و حرص
- کو
- مخفف «که او»
- کم و کاست
- کم شدن، کاهش یافتن، نقصان
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.