لوستل› دفتر ۲› د هغه شپون لپاره د حق تعالی لخوا پر موسی علیه السلام عتاب› بيت ۱۷۵۲
M2:1752 — تا توانی پا مَنِه اندر فَراق / اَبْغَضُ الْاَشْیاء عِندي الطَّلاق
M2:1752
مانا · به زبانِ تو — ستاسو ژبه · AI
جہاں تک ممکن ہو، جدائی اور علیحدگی کا سبب مت بنو، کیونکہ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ نفرت عمل کسی رشتے کو توڑنا اور دو چیزوں کو الگ کرنا ہے۔
یہ شعر حضرت موسیٰ اور چرواہے کے قصے کے اس حصے میں آتا ہے جہاں خدا حضرت موسیٰ پر عتاب فرما رہا ہے۔ حضرت موسیٰ نے چرواہے کی سادہ اور بےتکلف عبادت پر اسے جھڑکا تھا، جس سے وہ چرواہا خدا سے مایوس ہو کر الگ ہو گیا۔ اس پر خدا نے حضرت موسیٰ کو وحی کی کہ تم دنیا میں لوگوں کو مجھ سے جوڑنے آئے تھے یا توڑنے؟
اس شعر میں، مولانا رومی ایک حدیثِ نبوی (اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللہِ الطَّلَاقُ) کا مفہوم استعمال کرتے ہوئے اسے وسیع تر روحانی معنی عطا کرتے ہیں۔ یہاں ”طلاق“ صرف میاں بیوی کی علیحدگی تک محدود نہیں، بلکہ اس سے مراد ہر قسم کی جدائی اور علیحدگی (فراق) ہے۔ خدا حضرت موسیٰ کو سمجھا رہا ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان، یا لوگوں کے آپس میں، یا کسی بھی عاشق اور معشوق کے درمیان تفریق پیدا کرنا بدترین عمل ہے۔ تمہارا کام وصل پیدا کرنا ہے، فصل (جدائی) نہیں۔
یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ روحانیت کا جوہر جوڑنا اور متحد کرنا ہے۔ ظاہری اصول و ضوابط اگر کسی کے دل کو توڑ کر اسے خدا سے دور کر دیں تو وہ اصول اپنی روح کھو دیتے ہیں۔ خدا کو بندے کے دل کی سچی محبت اور اس کا حال مطلوب ہے، نہ کہ اس کے الفاظ اور ظاہری آداب۔ اس لیے کسی کو اس کے عشق کے راستے سے ہٹانا، چاہے وہ کتنا ہی سادہ کیوں نہ ہو، خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
- فَراق
- جدائی، علیحدگی، ہجر۔
- اَبْغَضُ الْاَشْیاء
- چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ، سب سے بری شے۔ یہ عربی ترکیب ہے۔
- عِندي
- میرے نزدیک، میری بارگاہ میں۔ یہ عربی لفظ ہے۔
- الطَّلاق
- علیحدگی، چھوڑ دینا، رشتہ توڑنا۔ یہاں اس کا مفہوم وسیع ہے اور ہر قسم کی جدائی پر لاگو ہوتا ہے۔
این بیت از زبان خداوند به موسی گفته میشود و او را سرزنش میکند که چرا با سختگیری خود، باعث جدایی میان یک بندهی سادهدل و معبودش شده است.
این بیت بخشی از داستان «سرزنش کردن خداوند به موسی به خاطر آن چوپان» است. موسی (ع) چوپانی را میبیند که با زبانی بسیار ساده و به دور از ادب عارفانه با خدا راز و نیاز میکند. موسی با تکیه بر ظاهر شریعت، چوپان را به شدت ملامت میکند و باعث میشود که او از ترس و شرم، از خدا روی بگرداند.
در اینجاست که وحی از سوی خداوند بر موسی نازل میشود و او را توبیخ میکند که: «تو برای وصل کردن آمدی یا فصل کردن؟» بیت مورد نظر، اوج این پیام الهی است. خداوند به موسی هشدار میدهد که تا میتواند باید از ایجاد «فراق» و جدایی پرهیز کند. سپس با نقل حدیثی مشهور («اَبغَضُ الحَلالِ اِلَی اللهِ الطَّلاق» که در اینجا کمی تغییر یافته)، این نکته را تأیید میکند که «طلاق» و جدایی، منفورترین امور نزد اوست.
مولانا در اینجا مفهوم «طلاق» را از معنای فقهی آن (جدایی زن و شوهر) فراتر برده و به هر نوع جدایی و گسست، بهویژه جدایی میان بنده و خدا، تعمیم میدهد. پیام اصلی این است که هدف دین، ایجاد پیوند و «وصل» است، نه داوریهای ظاهری که به «فصل» و دوری میانجامد. خداوند به موسی میفهماند که راه رسیدن به او یکی نیست و هر کس از مسیری و با زبانی خاص با او ارتباط برقرار میکند و نباید این رابطهی خالصانه را به بهانهی آداب و رسوم ظاهری، قطع کرد.
- فَراق
- جدایی، دوری
- مَنِه
- نگذار، قرار مده (فعل نهی از مصدر «نهادن»)
- اَبْغَضُ الْاَشْیاء
- منفورترین چیزها، دشمنداشتهترین امور
- عِندي
- نزد من، پیش من
- الطَّلاق
- جدایی، طلاق
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.