Ler› Livro 2› O jardineiro separando o Sufi, o jurista e o alauíta uns dos outros› Dístico 2187
M2:2187 — این جهان کوهست و گفت و گوی تو / از صدا هم باز آید سوی تو
M2:2187
Significado · به زبانِ تو — Sua língua · AI
یہ شعر بیان کرتا ہے کہ دنیا ایک گونجتے ہوئے پہاڑ کی مانند ہے جہاں ہمارے الفاظ اور اعمال کی بازگشت ہم تک ہی واپس آتی ہے۔
یہ شعر صوفی، فقیہ اور علوی کی کہانی کے دوران آتا ہے، جب باغبان صوفی کو مار پیٹ کر یہ عبرت انگیز پیغام دیتا ہے۔ صوفی، جو خود بھی باغبان کی درندگی کا شکار ہو چکا ہے، اپنے ساتھیوں کو خبردار کرتا ہے کہ یہ دنیا ایک پہاڑ کی مانند ہے اور جو کچھ ہم کہتے یا کرتے ہیں، وہ گونج کی طرح ہم تک ہی واپس آتا ہے۔
اس شعر میں رومی ایک بنیادی اخلاقی اور روحانی اصول بیان کرتے ہیں: کرم کا بدلہ کرم اور ظلم کا بدلہ ظلم۔ یہ محض ایک کہاوت نہیں بلکہ کائنات کا ایک اٹل قانون ہے۔ جس طرح پہاڑ میں پکاری گئی آواز واپس لوٹتی ہے، اسی طرح انسان کے اعمال (گفت و گو) بھی اس کے پاس واپس آتے ہیں۔ یہ پیغام صوفی کے ذریعے اس لیے دیا گیا ہے تاکہ فقیہ اور علوی کو آنے والے خطرے سے آگاہ کیا جا سکے اور انہیں ان کے اپنے اعمال کے نتائج کی یاد دلائی جا سکے۔
رومی کے نزدیک، یہ دنیا محض ایک مادی وجود نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جو انسان کے باطن اور اس کے اعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر انسان دوسروں کے ساتھ نیکی کرے گا تو اسے نیکی ہی ملے گی اور اگر وہ ظلم و ستم کرے گا تو اس کا خمیازہ اسے خود بھگتنا پڑے گا۔ یہ شعر اس کہانی کے مرکزی خیال کو تقویت دیتا ہے کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے اور انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہوتا ہے۔
- گفت و گوی تو
- تیری بات چیت، تیری گفتگو (مراد: تیرے اعمال، تیری حرکتیں)
- صدا
- آواز، گونج
- باز آید
- واپس آتی ہے، لوٹتی ہے
- سوی تو
- تیری طرف
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.