Läs› Daftar 4› Historien om åsnans klagomål till kamelen: ”Jag faller ofta på vägen, du faller sällan. Varför är det så?” och kamelens svar till henne› Vers 3375
M4:3375 — خاصه از بالای که تا زیر کوه / در سر آیم هر زمانی از شکوه
M4:3375
Betydelse · به زبانِ تو — Ditt språk · AI
خچر شتر سے شکایت کرتا ہے کہ خاص طور پر پہاڑی راستوں پر اترائی کے دوران، وہ خوف کے مارے ہر لمحے سر کے بل گر جاتا ہے۔
یہ بیت مثنوی کی ایک کہانی کا حصہ ہے جہاں ایک خچر شتر سے اپنی مشکلات بیان کرتا ہے۔ خچر کو شکایت ہے کہ وہ سفر کے دوران، خاص طور پر پہاڑی اترائیوں پر، بار بار گر جاتا ہے اور اسے چوٹیں آتی ہیں۔ اس بیت میں وہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح اونچائی سے نیچے کی طرف آتے ہوئے، پہاڑ کے دامن تک پہنچنے سے پہلے ہی، وہ خوف اور کمزوری کے باعث ہر لمحہ سر کے بل گرنے لگتا ہے۔
یہاں 'شکوه' (خوف) کا لفظ اہم ہے۔ یہ صرف جسمانی گرنے کا ذکر نہیں، بلکہ اس خوف اور کمزوری کی طرف بھی اشارہ ہے جو خچر کو اس کے سفر میں درپیش ہے۔ رومی اکثر جانوروں کی کہانیوں کے ذریعے انسانی نفسیات اور روحانی کمزوریوں کو بیان کرتے ہیں۔ اس کہانی میں، خچر کی یہ شکایت ایک وسیع تر اخلاقی اور صوفیانہ نقطہ کی تمہید ہے، جہاں بعد میں توبہ توڑنے والے شخص کی مثال دی جاتی ہے جو بار بار گناہوں میں گرتا ہے۔ خچر کا بار بار گرنا، اس کے خوف اور کمزوری کی علامت ہے، جو ایک ایسے شخص کی حالت سے مشابہت رکھتی ہے جو روحانی سفر میں ثابت قدم نہیں رہ پاتا۔
- خاصه
- خاص کر، خصوصاً
- بالای
- اونچائی، بلندی
- زیر کوه
- پہاڑ کے دامن تک، پہاڑ کے نیچے
- در سر آیم
- سر کے بل گرتا ہوں
- شکوه
- خوف، ہیبت
Diskussion — Fråga om denna beyt — besvarad från Masnavi, med varje vers citerad
Ditt samtal stannar på denna enhet om du inte väljer att dela det.
Vad läsare har frågat0
Inga frågor har delats ännu — din kan bli den första.