อ่าน› Daftar 1› เรื่องราวของนักไวยากรณ์และกัปตันเรือ› โคลงคู่ 2858
M1:2858 — باری اعرابی بدان معذور بود / کو ز دجله غافل و بس دور بود
M1:2858
ความหมาย · به زبانِ تو — ภาษาของคุณ · AI
البتہ، وہ بدو (اعرابی) اپنے اس عمل میں قابلِ معافی تھا کیونکہ وہ دریائے دجلہ کے وجود سے بےخبر تھا اور اس سے بہت فاصلے پر رہتا تھا۔
یہاں مولانا رومی ایک مشہور حکایت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس میں ایک صحرا نشین بدو بغداد کے خلیفہ کے لیے تحفے کے طور پر ایک مشکیزہ پانی لے کر جاتا ہے، یہ نہ جانتے ہوئے کہ خلیفہ کا شہر تو خود میٹھے پانی کے عظیم دریا، دجلہ، کے کنارے آباد ہے۔
اس سے پچھلے شعر میں مولانا نے فرمایا کہ ہم جو اپنے محدود علم (مشکیزے) کو خدا کے لامحدود علم (دجلہ) کے سامنے پیش کرتے ہیں، تو یہ بڑی نادانی ہے۔ لیکن اس شعر میں وہ کہتے ہیں کہ وہ بدو تو اپنی اس حرکت میں معذور تھا، کیونکہ وہ صحرا میں رہتا تھا اور اسے دجلہ کی وسعت اور قربت کا علم ہی نہیں تھا۔ اس کی جہالت اس کا عذر بن گئی۔
اس کے برعکس، ہم جو خدا کی معرفت کے سمندر کے کنارے رہتے ہیں، اگر پھر بھی اپنے چھوٹے چھوٹے علمی کارناموں پر فخر کریں تو ہمارا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں۔ یہ شعر دراصل اگلے شعر کے لیے زمین ہموار کرتا ہے جس میں مولانا کہتے ہیں کہ اگر اس بدو کو ہماری طرح دجلہ کی خبر ہوتی تو وہ کبھی اپنا مشکیزہ لے کر نہ آتا۔ صوفیانہ نکتہ یہ ہے کہ حقیقی علم کا ادراک ہوتے ہی انسان اپنے جزوی اور محدود علم کی بے وقعتی کو جان لیتا ہے۔
- اعرابی
- صحرا میں رہنے والا بدو، صحرا نشین۔
- معذور
- جس کا عذر قبول کیا جائے، قابلِ معافی۔
- دجله
- دریائے دجلہ، جو بغداد کے پاس سے گزرتا ہے۔ یہاں یہ خدا کے لامحدود علم کی علامت ہے۔
- بس دور
- بہت دور۔
บทสนทนา — ถามเกี่ยวกับบทกลอนนี้ — ตอบจากมัษนาวี พร้อมอ้างอิงทุกบทกลอน
บทสนทนาของคุณจะอยู่บนอุปกรณ์นี้ เว้นแต่คุณจะแบ่งปัน
สิ่งที่ผู้อ่านถาม0
ยังไม่มีคำถามที่แบ่งปัน — คำถามของคุณอาจเป็นคำถามแรก