Oku› Defter 1› Küçük Cihattan Büyük Cihada Döndük Yorumu› Beyit 1386
M1:1386 — عالمی را لقمه کرد و در کشید / معدهاش نعره زنان هَلْ مِنْ مَزید
M1:1386
Anlam · به زبانِ تو — Kendi dilin · AI
نفسِ امّارہ کی بھوک اور ہوس ایسی ہے کہ اگر اسے پوری دنیا بھی دے دی جائے تو وہ اسے کھا کر بھی سیر نہیں ہوگا اور مزید مانگتا رہے گا۔
یہ شعر ’جہادِ اکبر‘ یعنی نفس کے خلاف جنگ کی وضاحت کرتا ہے۔ مولانا رومی یہاں نفس کو دوزخ سے تشبیہ دے رہے ہیں، جس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ جس طرح دوزخ، جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے، گناہگاروں سے بھر جانے کے بعد بھی پکارتی ہے کہ ’ہَلْ مِنْ مَزید؟‘ (کیا کچھ اور ہے؟)، اسی طرح انسان کا نفس بھی ہے۔
اس تمثیل میں ’ایک جہاں کو لقمہ بنانا‘ نفس کی لامحدود خواہشات کی علامت ہے۔ دولت، طاقت، شہرت، اور لذتیں، خواہ کتنی ہی مل جائیں، نفس کو کبھی مطمئن نہیں کر سکتیں۔ ہر خواہش کی تکمیل ایک نئی اور بڑی خواہش کو جنم دیتی ہے۔ یہ شعر اس روحانی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ نفس کی پیروی انسان کو کبھی سکون نہیں دے سکتی، کیونکہ اس کی فطرت ہی سیر نہ ہونا ہے۔
اس سے پچھلے اشعار میں مولانا بتا چکے ہیں کہ یہ نفس ایک اژدھا ہے جو سات سمندر پی کر بھی پیاسا رہتا ہے۔ اس شعر میں وہ اس بھوک کو اپنے عروج پر دکھاتے ہیں۔ اس کا حل، جیسا کہ اگلے اشعار میں آئے گا، صرف اللہ کی مداخلت سے ممکن ہے، جب وہ اپنا ’قدم‘ اس پر رکھتا ہے تو یہ نفس قابو میں آتا ہے۔
- هَلْ مِنْ مَزید
- قرآنی آیت (سورۃ ق، آیت ۳۰) کا حصہ، جس کا مطلب ہے: ’’کیا کچھ اور ہے؟‘‘۔ یہ دوزخ کا قول ہے جب اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو بھر گئی؟
- در کشید
- اندر کھینچ لیا، نگل لیا۔
- نعره زنان
- نعرہ لگاتے ہوئے، چیختے ہوئے، بلند آواز سے پکارتے ہوئے۔
这节诗描绘了“自我”(nafs)永不满足的欲望,它吞噬一切,却总觉得不够,就像《古兰经》中地狱的嘶吼。
这节诗是鲁米对“大奋斗”(جهاد اکبر, jihād-i akbar)——即与内在自我(نفس, nafs)的斗争——的生动描绘。在前面的诗句中,鲁米已将这个“自我”比作地狱(دوزخ, dūzakh),一个能饮尽七海而烈焰不减的巨龙。
此处的意象极为强烈:“自我”的贪婪是宇宙级的,它能将整个世界(عالمی)当作一小口(لقمه)轻易吞下。然而,即便吞噬了整个存在,它非但没有满足,其“肠胃”(معده)反而发出雷鸣般的咆哮。这咆哮直接引用了《古兰经》中地狱之言:“可有更多?”(هَلْ مِنْ مَزید, hal min mazīd)。
通过这个典故,鲁米将个人内心的欲望与宇宙末日的终极贪婪直接联系起来。这不仅仅是关于食欲或物欲的比喻,而是对“自我”本质的洞察:它是一个无底洞,任何世俗的成就、财富或权力都无法填满。这种永不餍足的特性,正是“自我”最危险、最像地狱的地方。只有来自神圣(حق, ḥaqq)的直接干预——如后续诗句所言,当真主踏上地狱时——才能使其最终平息。
- هَلْ مِنْ مَزید
- 阿拉伯语,意为“可有更多?”。此句直接引自《古兰经》(50:30),是审判日时地狱(جهنم)被填满后发出的诘问。鲁米用它来形容“自我”(nafs)永不满足的欲望。
- نعره زنان
- 咆哮着,吼叫着。一个生动的现在分词短语,描绘了持续不断的、充满力量的喊声。
- لقمه
- 一口(食物),一小份。指能一口吞下的少量食物。此处用来与“整个世界”(عالمی)形成巨大反差,凸显“自我”欲望的庞大。
- در کشید
- 吞下,吸入。这个动词常用于饮酒或吸气,有一种迅猛而彻底地将某物吸入内部的意味。
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.