پڑھیے› دفتر ۲› حق تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس چرواہے کی خاطر عتاب کرنا› بیت ۱۷۵۹
M2:1759 — ما زبان را نَنْگریم و قال را / ما روان را بنگریم و حال را
M2:1759
معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
ہم ظاہری الفاظ اور گفتگو پر توجہ نہیں دیتے، بلکہ انسان کی باطنی کیفیت اور اس کی روح کی سچائی کو دیکھتے ہیں۔
یہ شعر اس مشہور حکایت کا حصہ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک چرواہے کو اللہ سے بے تکلفانہ اور بظاہر غیر مہذب انداز میں دعا مانگنے پر ڈانٹتے ہیں۔ اس کے جواب میں، اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ پر عتاب فرماتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ عبادت کی اصل روح ظاہری الفاظ اور رسم و رواج میں نہیں، بلکہ باطن کی سچی تڑپ اور حال میں پوشیدہ ہے۔
مولانا رومی یہاں واضح کر رہے ہیں کہ خدا کا پیمانہ انسانوں کے پیمانے سے مختلف ہے۔ انسان الفاظ (قال) اور زبان کی باریکیوں پر توجہ دیتے ہیں، لیکن خدا ان ظواہر سے بلند ہے۔ وہ براہِ راست روح (روان) اور اس کی اندرونی کیفیت (حال) کو دیکھتا ہے۔ چرواہے کے الفاظ بھلے ہی نامناسب تھے، لیکن اس کا دل محبت اور خلوص سے بھرا ہوا تھا، اور خدا کے نزدیک یہی چیز اہمیت رکھتی ہے۔
یہ شعر شریعت (ظاہری آداب) اور طریقت (باطنی حقیقت) کے درمیان ایک اہم نکتے کی نشاندہی کرتا ہے۔ مولانا کا پیغام یہ ہے کہ اصل دینداری محض رسمی عبادت نہیں، بلکہ دل کی وہ سوزش اور تڑپ ہے جو انسان کو خدا سے جوڑتی ہے۔ ظاہری شکلیں اور الفاظ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں؛ اصل چیز نیت اور باطنی اخلاص ہے۔
- قال
- گفتگو، بات، قول۔ یہاں اس سے مراد ظاہری الفاظ اور عبادات کی رسمی شکل ہے۔
- روان
- روح، جان، نفسِ ناطقہ۔ یہاں اس سے مراد انسان کی باطنی حقیقت اور اس کا جوہر ہے۔
- حال
- باطنی کیفیت، روحانی مرتبہ، دل کی حالت۔ صوفیانہ اصطلاح میں یہ وہ روحانی تجربہ ہے جو سالک پر وارد ہوتا ہے۔
خداوند به ظاهر و کلماتِ عبادتِ بندگانش توجهی ندارد، بلکه به نیت قلبی، اخلاص و شور و حال درونی آنها اهمیت میدهد.
این بیت، نقطهی اوج پیام خداوند به موسی در داستان شبان است. موسی چوپان را به خاطر کلمات ساده و به ظاهر کفرآمیزش سرزنش کرده بود، اما خداوند به او میآموزد که معیار پذیرش عبادت، صورت و قالب بیرونی آن نیست.
خداوند به موسی یادآوری میکند که «ما» (یعنی حضرت حق) به «زبان و قال» (گفتار و کلمات) اهمیت نمیدهیم. اینها امور ظاهری و عرضی هستند. در مقابل، آنچه برای ما مهم است «روان و حال» است؛ یعنی جوهر وجودی انسان، نیت پاک او و آن حالت شور و عشقی که در قلبش دارد. دعای چوپان، اگرچه از نظر فصاحت و آداب شرعی نادرست بود، اما از دلی سرشار از عشق و صمیمیت برمیخاست. همین «حال» است که نزد خداوند ارزش دارد.
مولانا در اینجا یک اصل بنیادین عرفانی را بیان میکند: برتری باطن بر ظاهر، و اهمیت «معنا» بر «صورت». این اصل نه تنها در عبادت، بلکه در تمام شئون زندگی معنوی حاکم است. خداوند به قلب انسانها مینگرد که جایگاه اخلاص و صدق است، نه به زبانی که ممکن است فصیح باشد اما از حقیقت تهی باشد. بنابراین، خطای عاشقانهٔ چوپان از صدها عبادت عالمانهی بیروح، نزد خداوند پذیرفتهتر است.
- قال
- گفتار، سخن، حرف
- روان
- جان، روح، نفس
- حال
- وضعیت درونی، کیفیت روحانی و عاطفی، شور و جذبه
- ننگریم
- نگاه نمیکنیم، توجه نمیکنیم
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.