پڑھیے› دفتر ۲› حق تعالیٰ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس چرواہے کی خاطر عتاب کرنا› بیت ۱۷۶۲
M2:1762 — چند ازین اَلفاظ و اِضْمار و مَجاز؟ / سوزْ خواهمْ سوز، با آن سوزْ ساز
M2:1762
معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI
خدا موسیٰ سے کہہ رہا ہے: ظاہری الفاظ اور بیان کے پیچ و خم کو چھوڑ دو۔ میں تم سے صرف عشق کی تپش اور سچی لگن چاہتا ہوں، پس اُسی کیفیت کو اپناؤ۔
یہ شعر اُس قصے کا نقطۂ عروج ہے جہاں خدا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اُس چرواہے پر سختی کرنے کی وجہ سے عتاب فرما رہا ہے جس نے اپنی سادہ اور بے تکلف زبان میں خدا سے محبت کا اظہار کیا تھا۔ موسیٰ نے چرواہے کی ظاہری گستاخی پر اُسے ڈانٹا تھا، لیکن خدا یہاں واضح کر رہا ہے کہ اُسے عبادت کے ظاہری آداب اور فصیح زبان کی پرواہ نہیں، بلکہ وہ دل کی سچی تڑپ اور محبت کی حرارت دیکھتا ہے۔
اس شعر میں خدا، موسیٰ کی منطقی اور عالمانہ گرفت کو ردّ کر رہا ہے۔ "الفاظ، اِضمار اور مَجاز" علمِ بیان اور منطق کی اصطلاحات ہیں، جن کا مطلب ہے ظاہری لفظ، پوشیدہ معنی اور استعارہ۔ خدا فرما رہا ہے کہ یہ سب ظاہری چیزیں ہیں، اصل شے تو "سوز" یعنی عشق کی آگ، تڑپ اور خلوص ہے۔ وہ موسیٰ کو حکم دے رہا ہے کہ ان ظاہری پیمانوں کو چھوڑ کر اُس باطنی کیفیت سے ہم آہنگ ہوں جو عاشقوں کا خاصہ ہے۔
مولانا کا پیغام یہ ہے کہ عشق کا راستہ، شریعت کے ظاہری علم اور آداب کے راستے سے مختلف ہے۔ عاشق کے دل کی آگ اُس کی زبان سے نکلی ہوئی غلطیوں پر بھاری ہوتی ہے۔ اصل عبادت دل کا گداز ہے، نہ کہ زبان کی فصاحت۔
- اِضْمار
- پوشیدہ رکھنا، دل میں چھپانا، کنایہ۔ علمِ بیان کی ایک اصطلاح۔
- مَجاز
- غیر حقیقی معنی، استعارہ۔ حقیقت کے برعکس۔ یہ بھی علمِ بیان کی ایک اصطلاح ہے۔
- سوز
- جلن، تپش، عشق کی آگ، گہری تڑپ۔
- ساز
- ہم آہنگ ہو جا، موافقت کر، مطابقت پیدا کر۔ 'ساختن' سے امر کا صیغہ۔
خداوند به موسی میگوید که به جای تمرکز بر ظواهر و آداب و عبارات پیچیده، به دنبال اصل مطلب یعنی عشق و حرارت درونی باش و با آن همدلی کن.
این بیت بخشی از پاسخ خداوند به موسی است. موسی چوپانی را به خاطر دعاهای ساده و عاشقانهاش که به زبان بیادبانه به نظر میرسید، سرزنش کرده بود. خداوند در اینجا موسی را عتاب میکند و به او یادآوری میکند که هدف اصلی از پرستش، برقراری ارتباطی صادقانه و پرشور با معبود است، نه رعایت دقیق قواعد و الفاظ.
کلماتی مانند «الفاظ»، «اضمار» و «مجاز» به فنون بلاغی و سخنوری اشاره دارند که نمایندهٔ عبادتهای عالمانه و ظاهری هستند. خداوند اینها را کنار میزند و در مقابل، «سوز» را طلب میکند. «سوز» همان آتش عشق، اخلاص و شور درونی است که در قلب چوپان شعلهور بود. فرمان «با آن سوز ساز» یعنی به جای خاموش کردن این آتش با انتقادهای ظاهری، با آن همراه و همنوا شو و قدرش را بدان.
پیام اصلی مولانا در این داستان این است که خداوند به قلب و حال درونی بندگانش نگاه میکند، نه به زبان و صورت اعمالشان. عشقی که از دل برآید، حتی اگر بیانش ناقص و خطآلود باشد، نزد خداوند از عبادتی بیروح و عالمانه که فقط به ظاهر آراسته است، ارزشمندتر است.
- اِضْمار
- پنهان کردن مقصود در سخن، کنایه، در دل سخن گفتن
- مَجاز
- به کار بردن واژه در غیر معنی اصلی آن، استعاره
- سوز
- سوزش، گداز، حرارت عشق، شور و اشتیاق درونی
- ساز
- همراه شو، موافقت کن، بساز
Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited
Your conversation stays on this device unless you share it.
What readers asked0
No questions shared yet — yours could be the first.