پڑھیے دفتر ۵ اس بات کے بیان میں کہ عارفِ واصل کی دعا اور اس کا حق سے درخواست کرنا حق کی اپنی ذات سے درخواست کرنے کے مترادف ہے، کہ کنت له سمعا و بصرا و لسانا و یدا (میں اس کا کان، آنکھ، زبان اور ہاتھ بن جاتا ہوں) اور اس کا قول: و ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمی (اور جب تو نے پھینکا تو تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) اور اس بارے میں آیات، اخبار اور آثار بہت ہیں۔ اور اس سبب کی شرح کہ حق مجرم کو کس طرح پکڑ کر توبہ نصوح کی طرف لاتا ہے۔ بیت ۲۲۶۱

M5:2261 — جان سنگین دارم و دل آهنین / ورنه خون گشتی درین رنج و حنین

جان سنگین دارم و دل آهنینورنه خون گشتی درین رنج و حنین
✦ اس بیت کو اردو میں پیش کریں

M5:2261

❋ ❋ ❋

معنی و شرح · به زبانِ تو — آپ کی زبان · AI

Discussion — Ask about this beyt — answered from the Masnavi, every verse cited

Your conversation stays on this device unless you share it.

What readers asked

No questions shared yet — yours could be the first.